پیرس۔23؍جون ( ایجنسیز)فرانس میں گرمی کی شدید لہر اور اس سے جڑے واقعات کے باعث کم سے کم 18 افراد فوت ہوگئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ میڈیاکے مطابق چند روز سے یورپی ممالک سخت گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور پیر کو درجہ حرارت بلند ترین سطح تک پہنچا۔فرانس میں اسکولوں کو بند کیا گیا ہے یا پھر ان کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں ماہ کے دوران گرمی مزید بڑھ سکتی ہے۔پیر کو بورڈآکس شہر میں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سیلسیس (107 اعشاریہ چار ڈگری فارن ہیٹ) تک پہنچ گیا جس پر پچھلے برس کے اگست کے مہینے کا ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ وسطی فرانس کے شہر پوئیٹریز میں 41.2 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پہنچا تھا جو 1947 کے بعد اس علاقے میں پڑنے والی اب تک کی سب سے زیادہ گرمی تھی۔علاوہ ازیں اسپین کے نسبتاً ٹھنڈے سمجھے جانے شہر سین سباسچیئن میں پیر کو درجہ حرات 40 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا اور روئٹرز کلائمیت مانیٹر کا کہنا ہے کہ یہ اس شہر میں روایتی طور پر پائے جانے والے موسم سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اپنے روایتی موسم سے کافی دور ہوتا جا رہا ہے۔سخت گرمی کی وجہ سے لوگ ٹھنڈے اور تیراکی کے مقامات کا رخ کر رہے ہیں تاہم سول ڈیفنس کے ترجمان جیروم بولینگر نے خبردار کیا ہے کہ صرف انہی مقامات پر تیراکی کی جائے جہاں نگرانی کا نظام موجود ہو۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کے روز وہ 13 افراد مختلف مقامات پر نہاتے ہوئے ڈوب گئے جنہوں نے گرمی سے بچنے کے لیے وہاں کا رخ کیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے برس موسم گرما میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شرح میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا تھا کیونکہ اس وقت بھی گرمی زیادہ تھی اور لوگ ٹھنڈے مقامات کی طرف جا رہے تھے۔