Thursday , August 17 2017
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود
فن کار
اے بندۂ مزدور نہ کر اِتنی مشقت
کاندھے پہ تھکن لاد کے کیوں شام کو گھر آئے
جاکر کسی دفتر میں تو صاحب کا ہُنر دیکھ
بیکار بھی بیٹھے تو وہ مصروف نظر آئے
……………………………
پاپولر میرٹھی
پھر فیل !
اس مرتبہ بھی آئے ہیں نمبر تیرے تو کم
رسوائیوں کا میری دفتر بنے گا تو
بیٹے کے سر پہ دیکے چپت باپ نے کہا
پھر فیل ہوگیا ہے منسٹر بنے گا تو
………………………
وحید واجد (رائچور)
بہت کچرا ہے …!
چل نِکلے اپاہج بھی چلا کے جھاڑو
بے کار ہے کیوں تُو بھی اُٹھالے جھاڑو
ہے لوک کہ پَرلوک سبھا کچھ مت دیکھ
کچرا ہے جہاں پر بھی لگادے جھاڑو
………………………
مکالمہ
( ایک ٹی وی اینکرز سے متنفر ایک چرواہا جس نے ٹی وی اینکر کی جانب سے لوگوں کو زچ کرتے ہوئے دیکھ کر اُس سے اُسی انداز میں بدل لیا ہے )
ٹی وی اینکر چرواہے سے:
آپ بکرے کو کیا کھلاتے ہیں
چرواہا: کالے کو یا سفید کو
ٹی وی اینکر : سفید کو
چرواہا : گھاس
ٹی وی اینکر : اور کالے کو
چرواہا :اس کو بھی گھاس
ٹی وی اینکر: ان کو باندھتے کہاں ہو
چرواہا: کالے کو یا سفید کو
ٹی وی اینکر : سفید کو
چرواہا : بڑے کمرے میں
ٹی وی اینکر : اور کالے کو
چرواہا :اس کو بھی بڑے کمرے میں
ٹی وی اینکر: ان کو نہلاتے کیسے ہو
چرواہا: کالے کو یا سفید کو
ٹی وی اینکر : سفید کو
چرواہا : پانی سے
ٹی وی اینکر : اور کالے کو
چرواہا :اس کو بھی پانی سے
ٹی وی اینکر (غصے سے ) منحوس آدمی جب دونوں کے ساتھ ایک جیسا کرتے ہو تو باربار مجھ سے پوچھتے کیوں ہو کہ کالے کو یا سفید کو؟
چرواہا: کیوں کہ سفید بکرا میرا ہے
ٹی وی اینکر : اور کالا
چرواہا : وہ بھی میرا ہے…!
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………
محبت کی سزا…!
٭ انگلینڈ کے بادشاہ جارج پنجم کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔ ایک مرتبہ اس کی سواری دریائے ٹیمز کے پاس سے گزر رہی تھی کہ اس نے ایک چھوٹے سے بچے کو کاپی پہ جھکے دیکھا۔ سواری کو رُکوا کر بادشاہ نیچے اترا اور بچے کے پاس جا کر پوچھا۔
’’کیا کر رہے ہو؟‘‘
بچے نے کہا: ’’سوال حل کر رہا ہوں۔‘‘
بادشاہ مسکرایا اور بچے کی کاپی لے کر سوال حل کر دیا اور پھر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ہنستے ہوئے گزر گیا۔
چند ماہ بعد جارج پنجم کا دوبارہ ادھر سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہی بچہ کاپی پر سر جھکا کر سوال کر رہا تھا۔ بادشاہ سواری سے اُتر کر اس کے پاس آیا اور پوچھا۔
’’ کیا سوال مشکل ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ بچے نے جواب دیا۔
’’لاؤ، میں حل کردوں‘‘۔
’’نہیں۔ ‘‘ بچے نے کاپی فوراً پشت کی جانب کرلی۔ پچھلی مرتبہ تم نے جو سوال حل کیا تھا وہ بالکل غلط تھا اور سزا میں مجھے ایک گھنٹے تک کونے میں کھڑا ہونا پڑا تھا۔‘‘
حبیب حمزہ العیدروس۔ جدہ
………………………
خواہش نہ ہو تو …!
٭ ایک مجرد شخص سے جب شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو اُس نے کچھ اس طرح اظہار کیا : ’’خواہش نہ ہوتے ہوئے کچھ حاصل کرنے سے بہتر یہ ہے کہ کچھ حاصل کرنے کی خواہش ہی نہ کی جائے …!‘‘
محمد منیرالدین الیاس ۔ مہدی پٹنم
………………………

TOPPOPULARRECENT