ریاض ۔ 28 اپریل (ایجنسیز) سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے، اور توانائی، خوراک اور ادویات کی ترسیل کے اہم راستوں کی حفاظت ناگزیر ہے۔سعودی مؤقف کے مطابق دنیا اس وقت آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک غیر معمولی کشیدگی اور تنازعہ کا سامنا کر رہی ہے، جو عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم آبی گزرگاہ ہے۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری خصوصاً سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کی واضح مذمت کرے۔ساتھ ہی ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے ایران کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے اور آبی گزرگاہوں، خصوصاً توانائی اور خوراک کی ترسیل کے راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ خلیج عرب کے خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے آبنائے ہرمز کے گرد ایک غیر معمولی تنازعہ کو جنم دیا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی ایک اہم شریان کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق کسی بھی خطرے کے براہِ راست اثرات عالمی توانائی منڈیوں، سپلائی چینز اور مجموعی عالمی اقتصادی استحکام پر مرتب ہوں گے۔ الواصل نے اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ سلامتی کونسل آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد منظور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ سعودی مندوب نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور آبنائے ہرمز یا باب المندب میں عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے یا سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔