’اب لڑکیاں بولیں گی، ملک سنے گا‘:راہول گاندھی

,

   

22 اگست کو پونے میںچھاتروں کی گونج پروگرام سے کانگریس قائد کا خطاب

نئی دہلی ۔16؍اگست ( ایجنسیز )کانگریس قائد راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں نے موجودہ حکومت کے سامنے جس حوصلے کے ساتھ جواب دہی کا مطالبہ کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے اپنی آواز تشدد کے بجائے امن، محبت اور ہنسی مذاق کے ساتھ بلند کی لیکن اس دوران متعدد طلبہ اور خاص طور پر طالبات کو دھمکیوں، بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔راہول گاندھی نے یہ بات ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہی جس میں انہوں نے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ پروگرام 22 اگست کو پونے میں ہو گا اور اس مرتبہ پروگرام خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ہوگا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہاکہ ’’اب لڑکیاں بولیں گی، ملک سنے گا۔پروگرام میں شرکت کے لیے راہول گاندھی کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کا فارم بھی دستیاب ہے جہاں طلبہ سے پونے میں 22 اگست کے پروگرام میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ فارم میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں طلبہ پہلے ہی اس مہم کا حصہ ہیں اور یہ پروگرام طلبہ کو اپنی پسند کا تعلیمی نظام حاصل کرنے کے مطالبے کے لیے آواز بلند کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔راہول گاندھی نے اپنی ایکس پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں وہ احتجاج میں شامل طلبہ، بالخصوص طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے تجربات سن رہے ہیں۔ تقریباً ساڑھے دس منٹ کی اس ویڈیو میں طلبہ نے سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور ٹرولنگ سے لے کر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، حراست اور بدسلوکی تک کے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ گفتگو میں سوشل میڈیا پر تصاویر کو بگاڑ کر یا دھندلا کر پیش کرنے اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مواد پھیلانے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ویڈیو میں ایک طالبہ نے کہا کہ جب کسی دوسرے شخص کے ساتھ ناانصافی ہو تو اس کے خلاف بھی آواز اٹھانا ضروری ہے۔گفتگو میں ایک دوسرے واقعے کا ذکر بھی آیا جس میں ایک طالبہ نے کہا کہ احتجاج کے دوران پیلٹ گن فائر کی گئی اور اس کے کان پر چوٹ لگی۔ یہ تمام تفصیلات ویڈیو میں موجود طلبہ کے بیانات پر مبنی ہیں۔ سوال اٹھایا گیاکہ اگر طلبہ کے ہاتھ میں ہندوستان کا آئین اور قومی پرچم ہو اور وہ پْرامن طور پر احتجاج کر رہے ہوں تو انہیں خطرہ کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔گفتگو کے آخری حصے میں بعض طالبات نے زبردستی معافی منگوائے جانے اور اس کے بعد سیاسی سطح پر اس معافی کو قبول کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ویڈیو میں طالبات نے اس معاملے اور احتجاج کے دوران اپنے ساتھ بدسلوکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔