امجد خان
وزیراعظم نریندر مودی کے عوامی خدمات (بحیثیت چیف منسٹر گجرات اور بحیثیت ملک کے وزیراعظم ) کے 7 اکتوبر 2026 کو پورے 25 سال مکمل ہوگئے۔ بی ے پی اور مو دی کے حامی ان کی پبلک سرویس کی سلور جوبلی کی تکمیل پر خوشیاں منارہے ہیں۔ حسن اتفاق سے 7 اکتوبر کو نہتے و مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کی تیسری برسی ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل نے بدترین انسانیت دشمن بلکہ درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 برسوں میں تقریباً ایک لاکھ فلسطینیوں کو شہید کیا ۔ تین تا چار لاکھ فلسطینیی زخمی ہوئے جن میں 35 تا 50 فیصد فلسطینی مستقل طور پر معذور ہوگئے ۔ ان تین برسوں میں غزہ اور فلسطین کے دوسرے مقامات پر اسرائیلی مظالم کے جو بھیانک مناظر دیکھنے میں آئے وہ یقیناً انسانیت پر اور انسانی تاریخ پر ایک داغ ایک بدنما دھبہ ہے لیکن افسوس کہ اپنے آپ کو مہذب اور انسانیت نواز کہنے والا امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اسرائیل کی سرکوبی کرنے کے بجائے اس کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور اسرائیلی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ڈیفنس فورس کے اعلیٰ عہدیداروںکو گرفتار کر کے ان پر عالمی سطح پر جنگی جرائم کے مجرمین ہونے کا لیبل چسپاں کیا جاتا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں بہنوں اور بچوں پر اسرائیل ناقابل تصور مطالم ڈھاتا رہا اور امت مسلمہ بڑی بے بسی بے کسی اور مجبوری کے ساتھ اس کا مشاہدہ کرتی رہی۔ پلانیٹ لیاب پی بی سی کی جانب سے جو سیٹلائیٹ امیجس یا تصاویر منظر عام پر لائی گئیں ان میں ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کو قبرستان میں تبدیل کردیا ہے ۔ اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں ، اسپتالوں ، بے شمار مساجد اور گرجا گھروں کو زمین کے برابر کردیا ، باالفاظ دیگر قبرستان میں تبدیل کردیا ہے ۔ اسرائیل کے مظالم اس کی دہشت گردی اور درندگی کے باوجود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیر بنجامن نیتن یاہو اور اسرائیل پر مہربانیوں پر مہربانیاں کئے جارہے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 25.5 ارب ڈالرس کی امداد کے ساتھ غیر معمولی فوجی امداد فراہم کی ہے ۔ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے ان تین برسوں کے دوران فلسطینیوں کو ہوئے جانی و مالی نقصانات پر مبنی ایک رپورٹ جاری ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ غزہ کی 2.4 ملین (24 لاکھ) آبادی پچھلے تین برسوں سے بدترین نسل کشی ، نسلی تطہیر بھوک و پیاس کے ساتھ ساتھ ادویات کی بدترین قلت کا سامنا کر رہی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اسرائیل، جنگ بندی کے باوجود غزہ پر مسلسل حملے کر رہا ہے ۔ 7 اکتوبر کو اسرائیلی درندگی کی تیسری برسی کے موقع پر بھی اسرائیل نے غزہ میں حملہ کر کے بے شمار فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کردیا ۔ قابض اسرائیلی فوج کے مسلسل حملوں کی وجہ سے غزہ کا 90 فیصد حصہ مکمل طورپر تباہ و برباد ہوگیا جبکہ اسرائیل نے فضائی حملوں بالخصوص میزائلوں ، بموں کی بارش اور دراندازی کے ذریعہ فلسطینیوں کو ان کی آبادیوں سے بیدخل کیا۔ اس طرح فی الوقت وہ غزہ کے 80 فیصد سے زائد رقبہ پر کنٹرول حاصل کر رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پچھلے تین برسوں سے اسرائیل نے 2.30 لاکھ ٹن سے زائد بارود کی بارش کی۔ رپورٹ میں اگرچہ شہداء کی تعداد تقریباً 75 ہزار بتائی گئی ہے لیکن اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ زائد از 10 ہزار فلسطینی ہنوز لاپتہ ہیں جن کی نعشیں شائد ملبہ کے ڈھیر میں دبی ہوئی ہیں۔ اسرائیل نے چن چن کر فلسطینی بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ۔ شہداء میں 55 فیصد بچے ، خواتین اور بوڑھے شامل ہیں۔ شہداء میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں ایک سال سے بھی کم ہے جبکہ شہید ہوئیں زائد 22 ہزار خواتین میں تقریباً نو ہزار مائیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں تین برسوں کے دوران 262 صحافی سیول ڈیفنس اور طبی عملہ کے دو ہزار کے قریب ارکان اور ایک ہزار سے زائد کھلاڑی شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی درندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے پوری منصوبہ بندی کے ذریعہ زائد از 3000 خاندانوں کا مکمل صفایا کردیا ۔ مطلب یہ کہ ان خاندانوں کے تمام ارکان کو شہید کردیا ۔ حد تو یہ ہے کہ کم از کم 200 بچوں نے بھوک اور پیاس کے نتیجہ میں دم توڑدیا۔ غزہ میں اسرائیل کی انسانیت دشمنی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ناقص غذا اور صاف پانی نہ ملنے کے نتیجہ میں بے شمار مرد و خواتین اور بچے امراض گردہ سے متاثر ہوکر چل بسے۔ اسرائیلی فورسس اور حکومت نے فلسطینی خواتین بالخصوص حاملہ خواتین کو چن چن کر نشانہ بنایا نتیجہ میں 12 ہزار سے زائد خواتین کے حمل ضائع ہوئے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ غزہ کے جملہ 38 اسپتالوں میں 50 فیصد بڑی مشکل سے کام کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں بتایا کہ کس طرح مساجد کو شہید کیا گیا اس ضمن میں رپورٹ میں جو اعداد و شمار منظر عام پر آئے ان کے مطابق غزہ کی جملہ 1275 مساجد میں 1076 کو مکمل طور پر شہید کردیا گیا ۔ رپورٹ میں یہ دل دہلادینے والا انکشاف بھی کیا گیا کہ اسرائیلی فورسس نے فلسطینیوں کی نعشیں چوری کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ اس ضمن میں رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورس نے تقریباً 2500 فلسطینیوں کی نعشیں چوری کی اور کئی اسپتالوں میں شہید فلسطینیوں کو اجتماعی قبروں میں ڈال دیا گیا۔ اسرائیلی فورسس نے بھوک پیاس سے بے حال فلسطینیوں بالخصوص بچوں کو اندھا دھند فائرنگ کر کے یا فضائی حملوں کے ذریعہ شہید کیا۔ غرض اسرائیل درندگی کا اور دنیا بالخصوص عالم اسلام کی بے بسی و بے حسی کا سلسلہ جاری ہے۔