اسپین: تارک وطن خواتین کی جنسی ہراسانی کی شکایات

   

میڈرڈ ۔ 20 اگست (ایجنسیز) اسپین کے علاقہ سیوتا میں 30 جولائی کو بڑے پیمانے پر تارکین وطن کی آمد کے بعد وہاں رجسٹریشن کی منتظر بعض خواتین کا کہنا ہے کہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے کی مشکلات کے ساتھ انہیں جنسی ہراسانی کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ ایک درجن سے زائد خواتین نے ایل ٹرامپولین کے شہری ساحل کے قریب تارکین وطن کیلئے قائم سرکاری استقبالیہ مرکز کے گرد لگی خاردار تاروں والی باڑ تک جانے والی جنگلاتی سڑک کے کنارہ عارضی کیمپ قائم کر لیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اس مرکز میں تقریباً 700 افراد مقیم ہیں، جو اس کی گنجائش سے 200 زیادہ ہیں۔ اس مرکز کے باہر سینکڑوں دیگر مراکشی، افریقی اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے ساتھ بہت سی خواتین بھی کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔ میڈیا نے وہاں موجود تین خواتین سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ علاقہ میں موجود بعض مرد انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق 72 ہزار افراد کی مراکش سے خطرناک حالات میں سرحد پار کر کے آمد کے بعد، جس دوران ہلاکتیں بھی ہوئیں، دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود 5 ہزار سے 8 ہزار تک افراد اب بھی سیوتا میں موجود ہیں، حالانکہ بہت سے افراد واپس مراکش جا چکے ہیں۔ شمالی مراکش کے شہر تازہ سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ وفا عتید نے روئٹرز کو بتایا کہ خواتین نے گتے کے ڈبوں، ہوا والے گدوں اور کمبلوں کی مدد سے یہ کیمپ پولیس کی اس گاڑی کے قریب قائم کیا ہے، جو مرکز کے داخلی دروازے پر تعینات ہے تاکہ انہیں تحفظ کا احساس رہے۔
عتید نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہے … بہت سے لڑکے ہر رات لڑکیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بعض اوقات اس وقت بھی جب آپ بیت الخلا جانے کے لیے نکلیں۔ وہ آپ کا پیچھا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہراساں کرنے والے افراد مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں افریقی اور عرب باشندے بھی شامل ہیں۔