الیکشن کمیشن میں عدم اتفاق جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں، الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ

,

   

آئینی ادارے میں دوکمشنروں کا 14 بار تحریری طور پر اعتراض درج کروانا باعث تشویش‘ صدر کانگریس کھرگے

نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر کے مختلف فیصلوں پر دو الیکشن کمشنروں کی کئی بار تحریری اعتراض درج کیے جانے کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے میں من مانی کا اشارہ ہے ، اس لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے ۔ کھرگے نیچہارشنبہ کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ کانگریس اور کئی اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی سال سے انتخابات کی غیر جانبداری اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھاتی رہی ہیں لیکن ان کی تشویش کو مذاق میں اڑا دیا گیا اور فارم-6 کیلئے کمیشن کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن کے اندر سے ہی وہی بات سامنے آئی ہے اور تین میں سے دو الیکشن کمشنروں نے 14 بار تحریری طور پر اعتراض درج کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فارم-6 کا غلط استعمال، سافٹ ویئر کا غلط استعمال، ووٹر فہرستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور شفافیت کے بغیر کیئے گئے فیصلے اب ملک کے سامنے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان اعتراضات پر کیا کیا۔کھرگے نے کہا کہ ایس آئی آر کے پہلے تین مراحل میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسودہ ووٹر فہرستوں سے 13.8 کروڑ نام باہر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے تعلق سے مسلسل سوال اٹھائے ہیں اور وہ تمام سوالات اب درست ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اسے جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ بتایا اور کہا کہ 24 اپریل 2026 کو 73 اپوزیشن راجیہ سبھا ممبران نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کیلئے راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل کونیا نوٹس دیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ابھی تک ملتوی نہیں ہوا ہے تو کیا راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن اب اس زیر التوا نوٹس پر فیصلہ کریں گے ۔کانگریس صدر نے کہا کہ اب سوال صرف ووٹ چوری کا نہیں بلکہ ہندوستان کی جمہوریت اور اس کے اداروں پر حکومت کے قبضہ ، ان کی آزادی اور غیر جانبداری کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اندر سے سامنے آئے دستاویزات مرکزی حکومت اور بی جے پی۔آر ایس ایس کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کو جواب دینا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے لوگوں سے جمہوریت چھیننے کی سازش کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔