برسرخدمت جج سے تحقیقات کا مطالبہ،لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی پرچوں کے افشاء میں حکومت کے اہم افراد کے رول کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں کے سی آر خاندان کے ارکان کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کے سی آر خاندان پر شبہات کو غلط ثابت کرے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے منعقد کئے گئے تمام امتحانات کی برسرخدمت جج سے تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں نوجوانوں نے اہم رول ادا کیا۔ 1200 نوجوانوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ حکومت نے ایک لاکھ 50 ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا اسمبلی میں اعلان کیا تھا لیکن 9 سال گذرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے 2000 بیروزگار نوجوانوں نے خودکشی کرلی ہے۔ پرچوں کے افشاء کے بارے میں صدرنشین کمیشن اور چیف منسٹر کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ حکومت اور کمیشن کی لاپرواہی کے نتیجہ میں امتحانی پرچوں کا افشاء ہوا ہے۔ حکومت نے کمیشن کو سیاسی باز آبادکاری کا مرکز بنادیا ہے۔ پرچوں کے افشاء سے لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کا مستقبل خطرہ میں پڑ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروپI کے امتحانی پرچے کے افشاء کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کمیشن کے امتحانی پرچہ جات کے اسٹرانگ روم میں آؤٹ سورسنگ ملازم کیسے داخل ہوا۔ انٹر میڈیٹ امتحانات کے پرچوں کے افشاء سے 24 طلبہ نے خودکشی کرلی تھی۔ ریونت ریڈی نے افشاء کے معاملات میں کے سی آر خاندان کے ارکان اور حکومت کے اہم ذمہ داروں کے رول کا شبہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو تمام امتحانات کی اپنے طور پر جانچ کرنی چاہیئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ گورنر کو افشاء معاملہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکومت کو تحقیقات کی ہدایت دینی چاہیئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی قائدین کی ملی بھگت کے ذریعہ حقیقی امیدواروں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ر