نیویارک : گزشتہ موسم گرما میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل سے متعلق سن 1973 کے اپنے فیصلے کو کالعدم ٹھہرانے کے متنازعہ فیصلے کے بعد اسقاط حمل کی گولیاں کھلے عام فراہم کرنا کافی اہمیت کا حامل ہے۔امریکہ میں خوراک اور ادویات کے نگراں ادارے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) نے اپنے اصول و ضوابط میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے تحت اب دواؤں کی بڑی کمپنیوں سمیت خوردہ فارمیسی کی دوکانوں کو اسقاط حمل کی گولیاں فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔گزشتہ موسم گرما میں امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے بعد سے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اسقاط حمل سے متعلق زیادہ سے زیادہ حقوق کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ برس ہی اس تبدیلی کو جزوی طور پر نافذ کیا تھا، تاہم یہ اعلان بھی کیا تھا کہ شاید وہ اس دیرینہ ضرورت کو اس طرح سے نافذ نہیں کرے گی کہ خواتین بذات خود ایسی دوا حاصل کر سکیں۔تاہم اب ایف ڈی اے کے تازہ فیصلے سے ایسی دواؤں کی لیبلنگ باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ ہو سکے گی، تاکہ بہت سی مزید خوردہ فارمیسیوں کو گولیاں فراہم کرنے کی اجازت مل سکے۔ البتہ دوا کی دوکانوں کو سرٹیفیکیشن کا عمل مکمل کرنا ہو گا۔امریکہ میں اسقاط حمل کی گولیاں ا?سانی سے فراہم کرنا ان خواتین کے لیے ایک اہم متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اپنی مرضی سے اپنا حمل ختم کرنا چاہتی ہیں۔ایک تحقیقی گروپ، گٹماشر انسٹی ٹیوٹ، جو اسقاط حمل کے حقوق کی حمایت کرتا ہے، کا اندازہ ہے کہ ملک میں اب نصف سے زیادہ اسقاط حمل سرجری کے بجائے گولیوں کی مدد سے کیے جاتے ہیں۔