ہائیر ایجوکیشن کونسل کے صدرنشین کا یو جی سی کو مکتوب
حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست میں انجینئرنگ کالجس کو خودمختار ڈیمڈ کا درجہ دینے سے قبل ریاستی حکومت سے اجازت طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدرنشین تلنگانہ ہائیر کمیشن پروفیسر وی بالا کرشنا ریڈی نے بتایا کہ انجینئرنگ کالجس کو خودمختار کا درجہ دیا جارہا ہے جس کے بعد ایسے کالجس داخلوں کے دوران من مانی کررہے ہیں۔ اس سے دوسرے انجینئرنگ کالجس پر اثر پڑرہا ہے۔ ملاریڈی تعلیمی اداروں کو مرکز نے ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ دیا ہے۔ مہندرا یونیورسٹی کو بھی خودمختار درجہ دینے کی تیاری کی جارہی ہے جس کے پیش نظر ریاستی حکومت نے یو جی سی کے ساتھ اے آئی سی ٹی ای کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ ڈیمڈ یونیورسٹیز کی جانب سے بڑے پیمانے کی تشہیر کی جارہی ہے جس سے چھوٹے انجینئرنگ کالجس کی غیریقینی صورتحال ہوگئی ہے جس کی تلنگانہ ہائیر ایجوکیشن نے نشاندہی کی ہے۔ سال 2016ء کے دوران ریاست میں 248 انجینئرنگ کالجس تھے اب گھٹ کر ان کی تعداد 159 تک پہنچ گئی ہے۔ دیہی علاقوں کے زیادہ تر انجینئرنگ کالجس بند ہوگئے۔ اے آئی سی ٹی اے نے ریاست تلنگانہ کو مشورہ دیا ہیکہ 80 فیصد انجینئرنگ کالجس میں تعلیمی معیار کو بلند کیا جائے۔ تاہم ریاست کے چند خانگی کالجس زیادہ منافع کمانے اور ریاستی حکومت کے اختیارات سے آزاد ہونے اور اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے اختیارات کو مسلط کرنے کیلئے ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے مسابقت کررہے ہیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران اس طرح کی کارروائی زیادہ ہوئی ہے جس کا کانگریس حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے جس کے بعد یو جی سی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کسی بھی انجینئرنگ کالج کو ڈیمڈ کا درجہ دینے سے قبل ریاستی حکومت سے این او سی حاصل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔2