ڈاکٹر وسیم راشد
اگر سرسید نہ ہوتے تو آج پوری دنیا میں جو علیگیرین پھیلے ہوئے ہیں کیا اتنی ہی تعداد میں ہوتے، اگر سرسید نہ ہوتے تو کیا آج دنیا جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک تہذیب و تمدن کے ادارے کے طور پر مانتی ہے ایسا ممکن ہوتا۔ اگر سرسید نہ ہوتے تو کیا ہم ایسا کوئی ادارہ وجود میں لاپاتے۔ اس دوڑتی بھاگتی زندگی میں جبکہ انسان کو روزی روٹی سے فرصت نہیں، ایسا ادارہ بنانے کے لیے خون جگر لگانا پڑتا ہے، گالیاں اور جوتے کھانے پڑتے ہیں۔ کفر کا فتویٰ لگواکر بھی مرد مومن کی طرح دن رات کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر سرسید نہ ہوتے تو شاید آج مسلمانوں کا کوئی ایسا ادارہ نہ ہوتا جہاں ان کا وجود اپنی اہمیت و افادیت منواتا ہے۔
سرسید نے اس قوم کے لئے رات و دن جاگ کر کام کیا جب کہ قوم سوتی رہی لیکن جو پودا انہوں نے لگایا تھا بھلے ہی اس کا پھل اُنہیں کھانے کو نہ ملا ہو، لیکن وہ آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، کیا کوئی ایسا دیوانہ آپ نے دیکھا ہے جو پیروں میں گھنگرو باندھ کر چندہ اکھٹا کر ے، جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر سرسید نہ ہوتے تو سب سے پہلے ہم ان کے تعلیمی نظریات یا تعلیمی افکار کے بارے میں بات کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اگر سرسید نہ ہوتے جب یہ سوال اُٹھتا ہے توایک پورا عہد نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب حکومت برطانیہ کا تسلط تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام ابھی بھی اپنا تسلط قائم کیے ہوئے تھا اور ہندوستانیوں کو جدید تعلیم سے دور رکھنے میں نہ صرف علماء دین بلکہ انگریز بھی شامل تھے۔ علماء دین نے خاص طور پر کہا،کیونکہ جب انگریزی تعلیم اور سائنٹفک نالج کی بات ہوتی تو سب سے زیادہ مخالفت ان ہی علماء دین کی تھی۔ سرسید نہ ہوتے تو مسلمان بلکہ ہندو بھی ابھی بھی اس تاریک نظام کا حصہ ہوتے۔ سرسید کا مشن صرف مسلمانوں کے لیے نہیں تھا وہ ہمیشہ نیشن کی بات کرتے تھے اور جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تب بھی اس میں ہندو لڑکوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ سرسید کے علاوہ کون تھا جس کی نظر نوجوانوں کے مستقبل پر تھی جو نوجوانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتا ہو، ایک سے ایک بڑے دانشور اس دور میں موجود تھے۔ریاضی، علم فلکیات، کیمسٹری، بائیالوجی اور طب غرض زمانہ قدیم سے نئی نئی ایجادات کا سلسلہ جاری تھا، لیکن محض ایجادات یا تحریر و تقریر سے انقلاب نہیں آتا،بلکہ عمل سے آتا ہے۔ اسی لیے سرسید نے اپنی پوری توجہ تعلیم وتربیت پر صرف کی۔ فتوے آئے لوگ مکہ تک پہنچ گئے فتویٰ لینے، لیکن انھوں نے وہ کردکھایا جو کوئی نہ کرسکا۔ آپ اس جرأت اور حوصلہ کی داد دیجئے جس میں انھوں نے غدر کے بعد کے حالات میں مسلمانوں کو انگریزی حکومت کے ظلم سے بچایا۔ جواہر لعل نہرو کے الفاظ یاد کیجئے۔
After the Mutiny, The British Government had deliberately repressed Muslims.)Discovry of India. P:34(
یہ الفاظ اس بات کی علامت ہیں کہ مسلمانوں کو جان بوجھ کر ہراساں کیا گیا۔ اس لیے سرسید نے اپنے ایک لیکچر میں ملت کو متنبہ کیا تھا کہ ’’جس حساب سے یہ تنزل شروع ہوا ہے اگر اسی اوسط سے اس کا اندازہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چند برس ہی اس بات کو باقی ہیں کہ مسلمان سائیسی، خانسامائی، خدمت گاری کے سوا اور کسی درجہ میں نہ رہیں گے اور کوئی ایسا گروہ جس کو دنیا میں کچھ عزت حاصل ہو مسلمانوں کے نام سے نہ پکارا جائے گا۔‘‘ (مجموعہ لکچرز، ص:373)
چونکہ ہمارا منشاء یہ ہے کہ ہم یہ بتاسکیں کہ سرسید نہ ہوتے تو کیا ہوتا، اس ضمن میں سب سے اہم تعلیمی نظریات، تعلیمی کاوشیں اور جدید سائنسی نالج سب سے اہم ہے، کیونکہ نہ مذہبی افکار سے نہ ان کے سیاسی خیالات سے اور نہ ہی ان کے تہذیبی اقدار سے اتنا فرق پڑنا تھا جتنا کہ تعلیم و تربیت سے وہ سمجھ گئے تھے، وہ آنے والے وقت کی نبض چھوئے بناء محسوس کررہے تھے کہ آنے والا دور صرف اور صرف تعلیم سے ہی جیتا جاسکتا ہے۔ زمانے کے ساتھ تبھی چلا جاسکتا ہے جب ہم جدید تعلیم، سائنٹفک نالج اور کالج کی تعلیم حاصل کریں۔ کالج کی تعلیم ان کے نزدیک اس لیے ضروری تھی کہ ادارہ کسی بھی طالب علم کی شخصیت کو بدل سکتا ہے شاید یہی وہ خیال تھا جس نے اُنھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کرنے میں مدد کی۔ انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: ’’میں سچ کہتا ہوں جو چیز تم کو اعلیٰ درجے پر پہنچانے والی ہے وہ صرف اعلیٰ تعلیم ہے۔ جب تک ہماری قوم میں ایسے لوگ پیدا نہ ہوں گے ہم ذلیل اور اُن سے پست رہیں گے اور اس عزت کو نہیں پہنچیں گے جس پر پہنچنے کو ہمارا دل چاہتا ہے۔‘‘
سرسید نے تو 1857 کی جنگ آزادی کی پہلی لڑائی اور مسلمانوں پر ٹوٹنے والی آفت سے ہی اس بات کا اندازہ لگالیا تھا کہ اب تعلیم کے بغیر گزارہ نہیں ۔ تعلیمی بیداری کی شروعات بنگال سے ہوگئی تھی اور راجہ رام موہن رائے اس تعلیمی تحریک کے نمائندہ تھے۔ انگریز حکمراں بھی ہندوستانیوں کی تعلیم کے لئے برابر مدد کررہے تھے۔ ڈیوڈ ہیر، جان کلارک مارش مین، لارڈ ہسٹنگز وغیرہ کی کوششوں سے بنگال، کلکتہ اور ممبئی کی تینوں پریزیڈنسی میں کالج قائم ہوئے تھے، لیکن مسلمان ابھی بھی تعلیم سے بہت دور تھے۔ سرسید چاہتے تھے کہ ایک معیاری سماج کی تشکیل میں مسلمان بھی مثبت کردار ادا کریں۔ ان کا یہ قول کہ:
’’دائیں ہاتھ میں قرآن بائیں ہاتھ میں سائنس اور سر پر کلمہ کا تاج ہو‘‘ اب ایک سوال یہاں ضرور اُٹھتا ہے کہ وہ شخص جو قرآن اور سر پر کلمہ کا تاج رکھ رہا ہو وہ کافر کیسے ہوسکتا ہے لیکن اس وقت ہندوستانی مسلمان جس جہالت کی اندھیری کو ٹھری میں سانس لے رہے تھے وہاںکوئی بھی بات جواُن کو نئی لگتی ہو وہ اُن کو کڑوی لگتی تھی۔ چلئے، ایک لمحہ کو بھول جاتے ہیں اور تصور کرلیتے ہیں کہ سرسید پیدا ہی نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟ سوال درسوال یہ بھی ہے کہ کیا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم ہوتی؟ اقبال جو آج مفکر، مدبّر اور علامہ کہلاتے ہیں کیا وہ اتنی شہرت کے حامل ہوتے؟ حالانکہ سرسید کی سرگرمیوں اور کالج کے قیام کے ساتھ ساتھ کچھ علماء نے مدارس قائم کیے پر وہ نہ تو دیر پاثابت ہوئے نہ ہی اُن کا اثر کالج جیسا ہوا۔
1863 میں جب سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کی کوشش جاری تھا تب انھوں نے ایک رسالہ ’’التماس بخدمت ساکنان ہند۔ درباب ترقی تعلیم اہل ہند‘ شائع کیا تھا۔ اس رسالہ کے عنوان سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ سرسید نہایت جانفشانی کے ساتھ تعلیم ہند کے لیے کوشاں تھے۔ سائنٹفک سوسائٹی کا مقصد بھی انگریزی کی کتابوں کا ترجمہ کرانا تھا تاکہ اہل ہندوستان انگریزی کتابوں سے بھی مستفید ہوسکیں اور بقول حالی، اس بات کو انگریزی تعلیم کے پھیلانے سے بھی زیادہ مقدم سمجھا، وہ انگریزی کی تاریخی اور علمی کتابوں کے ترجمہ پر زیادہ زور دیتے تھے۔ خود بھی دو کتابیں لکھنے کا ارادہ کیا لیکن وہ کالج کے کام میں اتنا مصروف ہوگئے کہ وہ کام ادھورا رہ گیا۔
سرسید جیسی عبقری شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ اُن کے افکار و نظریات آج بھی چاند ستاروں کی طرح اپنی روشنی پھیلارہے ہیں اور اُمت مسلمہ کو علم کی روشنی منور کررہے ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
علی گڑھ تحریک سے ملک اور قوم کی تعمیر تک …
آج ہماری ذمہ داری
ڈاکٹر اعظم بیگ
سابق صدر ھلبہ یونین علیگڑھ مسلم یونیورسٹی
جب 1857 کی ناکامی کے بعد سر سید احمد خان ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ لکھ رہے تھے، تو مسلم قوم گہری تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ نہ تعلیم تھی، نہ ملازمت، نہ کوئی مستقبل۔ سب کو لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ لیکن ایک شخص نے الگ انداز میں سوچا۔سر سید نے شکایت نہیں کی۔ انہوں نے ایک تحریک شروع کی۔ علی گڑھ تحریک۔
علی گڑھ تحریک کیا تھی؟ یہ صرف ایک کالج بنانے کی تحریک نہیں تھی۔ یہ ایک سوچ پیدا کرنے کی تحریک تھی۔ ایک ایسی سوچ کہ ہم تعلیم کے ذریعے اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک ایسی سوچ کہ جدید سائنسی تعلیم اور ہماری تہذیب ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ انہوں نے ہمیں تین بنیادی اصول دیئے ۔ تعلیم، اتحاد اور کردار۔انہوں نے 1875 میں محدود وسائل لیکن لامحدود امید کے ساتھ ایم اے او کالج کی بنیاد رکھی۔ وہ چھوٹا سا بیج آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے اس ملک کو صدر، سائنس دان، ادیب، کھلاڑی، انتظامی افسر، اساتذہ، ہر میدان کے ماہرین اور رہنما دیے ہیں۔آج سوال یہ ہے کہ ہم سر سید کو کیوں یاد کر رہے ہیں؟
کیونکہ چیلنجز آج بھی وہی ہیں۔ آج بھی ہماری قوم اور ہمارا ملک بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں ، بے روزگاری، نفرت، جعلی خبریں، فرقہ وارانہ تقسیم، اخلاقی زوال، تعمیرِ وطن میں ہماری مناسب اور جائز ذمہ داری، اور اعلیٰ تعلیم سے ہماری محرومی۔سر سید نے ہمیں سکھایا کہ ہر پسماندگی کا جواب تعلیم ہے۔ صرف ڈگری نہیں، بلکہ حقیقی تعلیم، جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دے۔تو آج ایک علی گڑھ کے فرد کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
ہماری پہلی ذمہ داری ہے کہ ہم دینی، پیشہ ورانہ اور جدید تعلیم حاصل کریں۔ ہمیں واٹس ایپ یونیورسٹی سے نکل کر حقیقی یونیورسٹیوں کی طرف آنا ہوگا۔ ہمیں سائنس، ٹیکنالوجی اور اپنی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ سر سید نے کہا تھا، ’’فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں ہوگا اود سائنس ہمارے بائیں ہاتھ میں، اور ’لا الٰہ الا اللہ‘ کا تاج ہمارے سر پر ہوگا*۔‘‘ہماری دوسری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو جوڑنے والے بنیں۔ سر سید ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان ہندوستان کی دو خوبصورت آنکھیں ہیں۔ آج جب کچھ طاقتیں ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہیں، تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نفرت کی دیوار نہیں، بلکہ اتحاد کا پل بنیں۔ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی تعلیم دی ہے:
جو تم سے کٹے,تم اس سے جڑو
ہماری تیسری ذمہ داری ہے کہ ہم کردار سازی کریں۔ سر سید نے ہاسٹل کی زندگی، نظم و ضبط اور تہذیب پر زور دیا۔ آج ہمیں نشہ، عدم برداشت اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنی ہے۔ ہمیں علی گڑھ کی تہذیب کا مظاہرہ کرنا ہے — جہاں ہم تمام مذاہب اور تمام نظریات کا احترام کرتے ہیں۔دوستو! علی گڑھ تحریک 1898 میں ختم نہیں ہوئی۔ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی تحریک ہے۔ تعمیر وطن صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔ یہ ہماری بھی ذمہ داری ہے۔اگر ہم اچھے ڈاکٹر بنتے ہیں، تو ہم ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ اگر ہم اچھے استاد، ایماندار افسر اور ذمہ دار شہری بنتے ہیں، تو ہم سر سید کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔آئیے، آج اس یومِ سر سید پر ہم عہد کریں کہ ہم یومِ سر سید کو صرف بریانی اور تقریروں تک محدود نہیں رکھیں گے۔ ہم سر سید کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں گے۔
ہم تعلیم حاصل کریں گے، اتحاد کو فروغ دیں گے اور سر سید کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں گے، جہاں کوئی بھی شخص تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہم اپنے کردار اور وطن سے محبت کے ذریعے تعمیر وطن کی بنیادوں کو مضبوط کریں گے۔ نفرت نہیں، ہر حال میں محبت، ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت اور ہمیشہ قائم رہنے والا بھائی چارہ ہی ہمارا شعار ہوگا۔اسی احساس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس سال جے پور، راجستھان میں منعقد ہونے والے یومِ سر سید کی تقریبات میں اسی موضوع کو مرکزی حیثیت دی ہے۔شکریہ!
علی گڑھ زندہ باد! ہندوستان زندہ باد!
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پائندہ باد!