Tuesday , September 17 2019

ایران میں ہم سے جنگ کرنے کی ہمت نہیں: ٹرمپ

امریکہ کا مشرق وسطی میں مزید 15 سو فوجی بھیجنے کا فیصلہ

واشنگٹن ۔25مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ایران ہم سے جنگ نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے یہ بات مشرق وسطیٰ میں مزید 1500 فوجیوں کی تعیناتی کے اعلان کے موقع پر کہی۔صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دینے والا ملک ہے۔ اس لیے امریکہ کسی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی فوج کی تعیناتی کے فیصلے میں ان کی انتظامیہ کی اکثریت کی رائے شامل ہے اور اس کامقصد صرف امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں تھوڑی تعداد میں مزید فوج تعینات کی جا رہی ہے۔اسی سیاق میں امریکی حکام نے خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کو بتایا کہ کانگریس کو بتا دیا گیا ہے کہ حکومت مشرق وسطیٰ میں اضافی نفری تعینات کرے گی۔ اس حوالے سے پینٹگان کی تجویز پر وائیٹ ہائوس میں آج ہفتے کو اہم اجلاس بھی ہوگا۔’اے پی‘ کے مطابق امریکی حکومت آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں 1500 مزید فوجیوں کی تعیناتی کو یقینی بنائے گی تاکہ امریکی مفادات کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ خطے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے ردعمل میں کیاگیا ہے امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد مشرق وسطٰی میں مزید 15 سو فوجی بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے جاپان کے دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔

ہم کم تعداد میں فوجی وہاں بھیجنے جا رہے ہیں، حفاظتی دستے میں شامل فوجیوں کی تعداد 15 سو ہوگی۔‘ ‘ مشرق وسطٰی بھیجے جانے والے دستے میں ایئرکرافٹ، جنگی طیارے، انجینیئرز اور پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس بٹالین کی توسیع شامل ہے جس کے عملے کی موجودہ تعداد چھ سو کے قریب ہے۔امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شاناہن کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کا بھرپور جواب ہے۔پینٹاگون حکام نے کہا ہے کہ مزید 15 سو فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ خطے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے ردعمل میں کیا گیا ہے جن کا تعلق امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایرانی قیادت سے ہے۔ان واقعات میں بغداد کے گرین زون پر راکٹ حملہ، فجیرہ میں دھماکہ خیز مواد سے چار ٹینکروں کا متاثر ہونا اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی آئل تنصیبات پر ڈرون حملہ شامل ہے۔تاہم ایران نے ان حملوں میں کسی سطح پر ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات خطرناک اور قابل مذمت ہیں۔ڈائریکٹر پینٹاگون جوائنٹ سٹاف ریئر ایڈمرل مائیکل گلڈے کا کہنا ہے کہ ہم اسے ایک مہم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گلڈے نے واضح کیا کہ خطے میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، ایئرکرافٹ کیرئر ٹاسک فورس، بی 52 بمبار طیاروں اور چھوٹے جنگی جہازوں کی رواں ماہ کے اوائل میں تعیناتی اپنے دفاع اور ایران کو دھمکیوں کا واضح جواب دینے کے لیے ہیں۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے ہم ایک بار پھر ایران کے ساتھ جنگ کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں کے باعث امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق ایران خطے میں کسی قسم کے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے قریب تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں میں ایرانی سپاہ پاسداران کا براہ راست ہاتھ ہے۔

TOPPOPULARRECENT