دیگر درخواستوں کے ساتھ سماعت کی خواہش ، حلقہ کے رائے دہندوں کو بچانے کی کوشش
حیدرآباد۔14۔اکٹوبر(سیاست نیوز) انڈیا اتحاد کی تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کے خلاف درخواست کے ادخال اور ملک بھر کے علاوہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ہندستانی نظام انتخابات کے متعلق خبروں کے بعدبیرسٹر اسدالدین اویسی نے آج ایس آئی آر کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے دیگر درخواستوں کے ساتھ ان کی درخواست کی سماعت کی خواہش کی ۔ ایس آئی آر مسئلہ پر ہونے والے انکشافات اور ہندستان بھر میں نوجوانوں بالخصوص طلبہ کی جانب سے احتجاج اور اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے قائدین کی جانب سے دہلی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج اور سپریم کورٹ مارچ کے بعد سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے ساتھ بیرسٹر اسدالدین اویسی کے وکلاء نے ان کے مقدمہ کی بھی سماعت کرنے کے خواہش کی ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی بنچ پر پیش کی گئی اس درخواست ایس آئی آر کے عمل کو چیالنج کیاگیا ہے۔صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی S.I.R کے معاملہ میں محض بیانات اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کی جانے والی بات چیت کے علاوہ اپنے حلقہ انتخاب میں رائے دہندوں کے ناموں کو حذف ہونے سے بچانے کی کوشش میں مصروف تھے نے اب ’انڈیا ‘ اتحاد میں شامل جماعتوں کے قائدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے S.I.Rکے عمل کو سپریم کورٹ میں چیالنج کردیا ہے جبکہ وہ اس معاملہ میں بیانات اور ذرائع ابلاغ کی حد تک خود کو محدود رکھے ہوئے تھے ۔سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت 15 اکٹوبر کو مقرر ہے اور بیرسٹر اسدالدین اویسی کے وکیل نظام پاشاہ نے عدالت سے خواہش کی ہے کہ ان کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی بھی ان مقدمات کے ساتھ ہی سماعت مقرر کی جائے ۔چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے درخواست کی دیگر معاملوں کے ساتھ عاجلانہ سماعت کے سلسلہ میں داخل کی گئی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنے کا تیقن دیا۔اپوزیشن اتحاد میں شامل سیاسی جماعتو ںکے قائدین جن میں راہول گاندھی ‘ ملکارجن کھرگے ‘ سگتا رائے ‘ اکھلیش یادو ‘ تیجسوی یادو‘ سنجے راوت ‘ ایم اے بے بی‘ سپریہ سولے ‘ ڈی راجہ ‘ مہوہ ماجی کے علاوہ دیگر شامل ہیں نے سپریم کورٹ تک راہول گاندھی کی قیادت میں مارچ منعقد کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور اب تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے اس مسئلہ پر عدالت سے رجوع ہونے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔3/m/b