مکان میں داخل ہونے پر سوال، پولیس کے رویہ کے خلاف عدالت میں درخواست
حیدرآباد۔12 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) دہلی ہائی کورٹ نے اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس کے نیشنل سکریٹری ندیم خاں کو نئی دہلی میں جنتر منتر پر 29 ستمبر کو پرامن احتجاج میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے پولیس کے رویہ پر ناراضگی جتائی ۔ عدالت نے دہلی پولیس سے زبانی طور پر سوال کیا کہ وہ ندیم خاں کے مکان میں کیوں داخل ہوئے؟ ہائی کورٹ نے ندیم خاں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کی گئی۔ ندیم خاں نے غیر قانونی حراست کے دہلی پولیس کے اقدام کو چیلنج کیا۔ کارگزار چیف جسٹس نتن واسو دیو سمبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل بنچ نے اس سلسلہ میں دہلی پولیس کو موقف بیان کرنے کی ہدایت دی۔ دہلی پولیس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ندیم خاں کو محروس نہیں کیا گیا اور پولیس صرف معلومات کرنے ان کے مکان پہنچی تھی۔ پولیس کے وکیل نے جواب داخل کرنے کیلئے عدالت سے مہلت طلب کی ۔ ندیم خاں کے وکیل نے پولیس کے موقف کی تردید کی اور کہا کہ 29 ستمبرکو ان کے موکل کو محروس کیا گیا تھا۔ ایڈوکیٹ شاہ رخ عالم نے عدالت میں تصاویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ 29 ستمبر کو پولیس کسی نوٹس کے بغیر پہنچی اور ندیم خاں کو محروس کیا۔ پولیس عہدیدار شام تک وہیں موجود رہے اور مسلسل نگرانی کرتے رہے۔ پولیس کی ہراسانی اور محروس رکھنے کے نتیجہ میں ندیم خاں احتجاج میں حصہ نہ لے سکے۔ دہلی پولیس کے وکیل نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور محض سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے پولیس کو تعینات کیا گیا تھا ۔ دہلی پولیس کے بیان کو عدالت نے ریکارڈ کیا۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے عدالت سے کہا کہ اس معاملہ میں نوٹس جاری کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ ندیم خاں نے الزام عائد کیا کہ انہیں صبح 9.30 تاشام 5.30 بجے تک جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر میں محروس رکھا گیا۔1/k