راہول گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دے کر سرکاری گواہ بننے کا مشورہ

,

   

انڈیا اتحاد کا سپریم کورٹ تک طوفانی مارچ ، گیانیش کمار کیخلاف درخواست ، آج سماعت متوقع

نئی دہلی، 12 اکتوبر (ایجنسیز): لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے اور سرکاری گواہ بننے کی اپیل کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے پیچھے بڑی طاقتیں کارفرما ہیں۔ کانگریس کے مرکزی دفتر اندرا بھون میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ انڈیا بلاک کے قائدین انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے قاعدگیوں اور خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار نے غلطی کی ہے، لیکن وہ اس مبینہ معاملے کے اصل منصوبہ ساز نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کے تقریباً 200 عہدیدار اپوزیشن سے رابطے میں ہیں اور انہیں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ لڑائی کسی ایک سیاسی قائد کے خلاف نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، عوام کے حقِ رائے دہی اور ملک کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے نوجوانوں، اپوزیشن جماعتوں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے تمام شہریوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ راہول گاندھی نے دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات اور مظاہرین کو دارالحکومت پہنچنے سے روکنے کے مبینہ اقدامات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملک کی راجدھانی کو ’’قید خانے‘‘ میں کیوں تبدیل کردیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے احتجاجیوں کے خلاف مبینہ پولیس کارروائیوں سے متعلق ویڈیوز بھی دکھائیں۔ بعدازاں راہول گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی واڈرا اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت انڈیا بلاک کے متعدد قائدین نے ’’چلو دہلی، مارچ فار ڈیموکریسی‘‘ کے تحت سپریم کورٹ کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے بھگوان داس روڈ کے قریب رکاوٹیں کھڑی کرکے مارچ کو روک دیا، تاہم وکلا کے ذریعے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کردی گئی۔ درخواست میں انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے حذف کیے جانے، ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر عدالتی مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ درخواست میں راہول گاندھی کے علاوہ ملکارجن کھرگے، اکھلیش یادو، تیجسوی پرساد یادو، سوگتا رائے، سپریا سولے، سنجے راوت، ڈی راجہ اور دیگر اپوزیشن قائدین بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن قائدین کی ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ عدالتی طریقہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔درخواست پر منگل کو سماعت متوقع ہے۔ اپوزیشن نے گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات اور انتخابی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیاں قانونی طریقۂ کار کے مطابق کی جاتی ہیں اور ادارہ جاتی مشاورت کے دوران اختلافِ رائے معمول کی بات ہے۔