ایمرجنسی میں مریضوں کو بھاگ دوڑ سے نجات ملے گی

   

طبی سہولیات بہتر بنانے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کرنے یوپی حکومت کا دعویٰ

لکھنؤ ۔ اترپردیش حکومت نے طبی سہولیات بہتر بنانے کے لئے موجود ہ نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس کے تحت ملک میں پہلی بار اسپتالوں میں ‘لائیو ایمرجنسی مانیٹرنگ سسٹم’ نافذ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی کووڈ کمانڈ سنٹر کی طرز پر انٹگریٹیڈ ٹراما اور ایمرجنسی سنٹرکا قیام ہوگا۔ آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ’ہفتہ کو یہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ اب ریاست کے سبھی اضلاع میں ہر مقام پر محض ایک فون کال پر ایمبولنس آئے گی۔ مریضوں کا اسپتال میں فورا علاج شروع ہوگا۔ علاج میں تاخیر کا مسئلہ سے نپٹنے کے لئے ریاستی حکومت نے عالمی صحت تنظیم اور ایمس کی جانب سے طبی اہلکار کو اس ضمن میں خاص طور سے ٹریننگ دی جائے گی۔ جس سے اسپتال میں مریض کے پہنچنے کے بعد بھی علاج شروع ہونے میں تاخیر ہونے کی دیری کا تجزیہ کر اس مسئلہ کو دور کیا جاسکے ۔ محکمہ صحت کے ایک افسر نے بتایا کہ مریضوں کو وقت پر اسپتال بھیجنے اور وقت پر علاج شروع کرنے کے لئے ایمبولنس اور ٹیکنکل اسٹاف میں اضافہ کر انہیں ٹریننگ دی جائے گی۔’انٹگریٹیڈ ٹراما اور ایمرجنسی سنٹر’ کے قیام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کی اہلیت یومیہ 40ہزار کال ریسیو کرنے کی ہوگی۔ اس سے اوسطاََ ہر سال تین لاکھ مریضوں کا علاج ہوگا۔ سرکار نے اس اسکیم کو زمین پر اتارنے کے لئے دو زمروں والی حکمت عملی بنائی ہے ۔ اس کے تحت درمیانی حکمت عملی کو دسمبر 2023 تک اور دسمبر 2026 تک طویل مدتی حکمت عملی نافذ کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے ۔ درمیانی مدت کی حکمت عملی کے تحت اگلے دو سالوں میں کال سنٹر اور موبائل ایپ تیار ہوگا۔ ساتھ ہی پہلے ، دوسرے اور تیسرے درجے کے چار چار میڈیکل مراکز کو فعال کیا جائے گا۔ درمیانی مدت کی اسکیم کے تحت تقریبا چار ہزار ایمبولنس فعال کئے جائیں گے ۔ ساتھ ہی پہلے درجے کے نوایمرجنسی میڈیکل سنٹر، دوسرے درجے کے 10اور تیسرے درجے کے 27 ایمرجنسی میڈیکل سنٹر فعال کئے جائیں گے ۔ پوری اسکیم کو نافذ کرنے کے لئے 47میڈیکل کالجوں اور اداروں میں ٹراما سنٹر کھولے جائیں گے ۔ اس میں تیسرے اور دوسرے درجے کے میڈیکل کالجوں کو پہلے درجے میں میڈیکل کالج میں اپگریڈ کیا جائے گا۔ جن میڈیکل اداروں اور میڈیکل کالجوں کی اپگریڈیشن کے لئے نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان میں دسمبر 2023 تک ایس جی پی جی آئی گورکھپور، کانپور، میرٹھ، قنوج، بدایوں، اجودھیا، جمس نوئیڈا، بستی، شاہجہاں پور، فیروزآباد اور بہرائچ شامل ہیں۔ جبکہ دسمبر 2026 تک یوپی ایم ایس سیفئی، آر ایم ایل آئی ایم ایس آگرہ، جھانسی، پریاگ راج، چائلڈ پی جی آئی، باندہ، سہارنپور، جالون، اعظم گڑھ، امبیڈکر نگر، پرتاپ گڑھ، سدھارتھ نگر، ہردوئی،ایٹہ، فتح پور، دیوریا،جونپور، مرزاپور، غازی پور اور 14دیگر میڈیکل کالجوں کو اپگریڈ کیا جائے گا۔