لچکدار اور جامع ترقی کیلئے برکس گلوبل ساوتھ کا پلیٹ فارم، توسیع شدہ برکس میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم
وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب ‘ اتفاق رائے سے دہلی اعلامیہ جاری ‘ دو روزہ سربراہ اجلاس کا اختتام
نئی دہلی ۔13؍ستمبر ( ایجنسیز )نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہ اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔سربراہی اجلاس کا دوسرا اور آخری دن اتوار، 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ ہندوستان کی میزبانی میں اجلاس بھارت منڈپم میں منعقد کیا گیا، جس کی صدارت کے لیے بھارت نے استقامت، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر‘‘ کا موضوع منتخب کیا ۔ ہندوستان کو چوتھی مرتبہ برکس کی صدارت کا موقع ملا ہے۔ اس سے قبل ہندوستان 2012، 2016 اور 2021 میں برکس کی قیادت کر چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس (BRICS) ممالک کے رہنما، 12 سے 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں جمع ہوئے۔ ہندوستان کی صدارت میں برکس کی اٹھارویں سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی جو “لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کیلئے تعمیر کے موضوع پر تھی۔ سربراہ اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مضبوطی، اختراع، امدادِ باہمی، اور پائیداری پر مبنی شمولیت ہی ترقی کے مستقبل کی تشکیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم باہمی احترام و افہام و تفہیم، خودمختارانہ مساوات، یکجہتی، جمہوریت، کشادگی، شمولیت، باہمی تعاون اور اتفاقِ رائے پر مبنی ‘برکس’ (BRICS) کی روح کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ برکس کے دو دہائیوں پر محیط سفر کو بنیاد بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سیاسی و سلامتی، اقتصادی و مالیاتی، اور ثقافتی و عوامی سطح پر تعاون کے تین ستونوں کے تحت توسیع شدہ برکس میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم امن کے فروغ، ایک زیادہ نمائندہ اور منصفانہ بین الاقوامی نظام، ایک نئی روح کے حامل اور اصلاح شدہ کثیر الجہتی نظام، پائیدار ترقی اور سب کو شامل کرنے والی (شمولیتی) معاشی ترقی کے ذریعے اپنے عوام کے مفاد میں اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔آج یہ ہال مختلف براعظموں، ثقافتوں اور ترقیاتی سفر کو ایک ساتھ جوڑ رہا ہے۔ یہ برکس کی بڑھتی ہوئی طاقت، کشش اور بے مثال اعتماد کا ثبوت ہے۔ہندوستان کی صدارت میں ہم نے سبھی نے اپنی کوششیں مضبوطی، اختراع، امدادِ باہمی اور پائیداری، ان چار ستونوں پر مرکوز رکھی ہیں۔ مودی نے کہا کہ آج دنیا بھر میں تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام الناس کی زندگی پر اس کا بہت منفی اثر بھی مرتب ہو رہا ہے۔وبائی امراض، موسمیاتی تباہ کاریوں اور سپلائی چین میں رکاؤٹوں نے دکھایا ہے کہ آج کی باہم مربوط دنیا میں کوئی بھی بحران ایک خطے تک محدود نہیں رہتا۔ اس لیے ہم نے برکس گروپ میں مضبوطی کو بڑھانے پر خصوصی زور دیا ہے۔ برکس لاجسٹکس سپلائی چین کوآپریشن فریم ورک ہماری سپلائی کے چیالنجوں کو مزید قابل بھروسہ اور مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ہندوستان نے برکس کے اسٹیج سے دوستی، شراکت داری اور تعاون کو آگے بڑھایا ہے۔ہماری کوشش رہی ہے کہ برکس تعاون محض حکومتوں تک محدود نہ رہے۔ ہمارے صنعت کار، کاشتکار، محققین، خواتین، نوجوان اور عوام الناس بھی اس کے فعال شراکت دار بنیں۔ہم نے برکس کنیکٹ کے توسط سے ہنر ، روزگار کی اہلیت، افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت، سماجی سلامتی اور صلاحیت سازی کو فروغ دیا ہے۔ صدیوں سے ہمارا یہ عقیدہ رہا ہے کہ ترقی اور ماحول ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ برکس میں بھی ہم نے انسانی ترقی اور ماحول کے درمیان توازن پر زور دیا ہے۔یہی پائیداری کی بنیاد ہے۔ یہ آنے والی نسلوں کے تئیں ہمارا فرض بھی ہے۔ ان چاروں ستونوں پر آگے بڑھتے ہوئے برکس کے ذریعے ہم نے جامع عالمی ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ برکس میں تیار کردہ حل کا فائدہ صرف برکس تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں گلوبل ساؤتھ کی ضروریات کے مطابق لچکدار اور قابلِ رسائی بنانا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ برکس کو لیکر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ برکس میں ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ان کے تجربات کا احترام کیا جاتا ہے اور حل ان کے لیے بلکہ ان کے ساتھ مل کر نکالے جاتے ہیں۔برکس کی طاقت ہمارے تنوع اور تعاون میں مضمر ہے۔ مودی نے کہا کہ ہمارے حقائق مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہم باہمی تعاون کے ذریعہ ایک ساتھ ابھرتے ہیں اور انسانیت کے لیے پھلتے پھولتے ہیں۔ہماری گوناگونیت ہماری شناخت بنی رہے، ہمارا تعاون ہماری ترغیب بنے اور ہماری ترقی مکمل بنی نوع انسانی کے کام آئے۔