برہمپتر کا بہاؤ موڑنے کی بات افواہ:تبت انتظامیہ

   

لہاسا (تبت۔چین)، 16اگست (سیاست ڈاٹ کام) چین نے واضح کیا ہے کہ یارلنگ سانگپو یا برہمپتر دریا کے پانی کا بہاؤ موڑ کر ہندوستان جانے سے روکنے کی بات مکمل طور پر بے بنیاد اور محض افواہ ہے۔ چین کے تبت خود مختار علاقے کی انتظامیہ میں ترقیات اور اصلاحات کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جیانگ تائی چنیاگ نے ہندوستان سے آنے والی صحافیوں کی ایک ٹیم سے بات چیت میں کہا کہ تبت ایشیا کا واٹر ٹینک یعنی آبی ذخائر ہے ۔ یہاں 47 سے زیادہ بڑے آبی ذخائر یا جھیلیں ہیں جن کا رقبہ چار ملین مربع کلومیٹر ہے ۔ یہاں پانی کا معیار دنیا میں سب سے بہترہے ۔ تبت کے 34 فیصد علاقہ ماحولیاتی تحفظ کا علاقہ ہے اور یہاں کا ماحول 99 فیصد سے زیادہ بہتر ہے ۔ یہ علاقہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ماحولیاتی توازن کے لحاظ سے بہت ہی اہم ہے۔ تبت میں یارلنگ سانگپو کے نام سے منسوب برہمپتر دریا کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کی اطلاعات کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیانگ تائی چنیاگ نے کہاکہ ‘‘ہم کسی دریا کا بہاؤ تبدیل نہیں کر رہے ہیں۔ یہ بات پوری طرح بے بنیاد اور افواہ ہے ’’۔ انہوں نے کہا کہ تبت خود مختار انتظامیہ آلودگی سے مبرا توانائی کی پیداوار پر زور دے رہی ہے ۔ پن بجلی اور شمسی توانائی کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ تبت میں سو سے زیادہ شمسی توانائی پراجکٹ چل رہے ہیں جن سے 1400 میگاواٹ بجلی پیداوار ہو رہی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت تبت میں پن بجلی کی کتنے پروجیکٹ چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبت میں متعدد آبپاشی پراجکٹ چل رہے ہیں۔ کھیتوں میں پانی کے کفایتی استعمال کی اسرائیلی تکنیک ڈرپ واٹر پراجکٹ نافذ کیا گیا ہے ۔ اسی سے کسانوں اور دیہی گھروں کو پینے کا صاف پانی بھی مہیا کرایا گیا ہے ۔