بنگال کے مدرسہ ٹیچر کا دعوی جئے شرام رام کا نہ کہنے پر ٹرین سے دھکا دیاگیا

,

   

ریلوے پولیس افیسروں نے کہاکہ ایک مرتبہ شناخت ہونے کے بعد شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی

کلکتہ۔ایک 26سالہ مدرسہ ٹیچر نے منگل کے روز اس بات کا دعوی کیاکہ انہیں جمعرات کی دوپہرایک گروپ نے ”جئے شری رام“ نہ کہنے پر چلتی ٹرین سے دھکہ دیدیا‘ اس وقت وہ جنوبی24پرگنا میں کانننگ سے ہولی سفر کررہے تھے۔

حافظ محمد شاہ رخ ہلدار جس کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں معمولی چوٹیاں ائی ہیں نے کہاکہ ”میں ہولی کے سفر پر تھا‘ جب ایک گروپ آیا اور بوگی میں ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے۔

مجھ سے بھی ویسے ہی نعرے لگانے کا استفسار کیا۔ جب میں نے انکار کیا‘ ان لوگوں نے میرے ساتھ مارپیٹ شروع کردی‘ بچانے کے لئے آگے کوئی نہیں آیا۔مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرین دھاکوریہ اور پارک سرکس اسٹیشن کے درمیان میں تھی۔

ان لوگوں نے مجھے پارک سرکس اسٹیشن پر ٹرین سے دھکا دے کر نیچے گرادیا۔ کچھ مقامی لوگوں نے میری مدد کی“۔

ریلوے پولیس کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ”انہیں معمولی چوٹیں ہیں اور اسپتال لے جایاگیاہے۔ علاج کیاجارہا ہے۔ جگہ کو لے کر سفر کے دوران ہوئی مارپیٹ کامعاملہ لگ رہا ہے۔دو سے تین لوگوں معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

تحقیقات جاری ہے اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں ائی ہے“۔ ہلدار کے مطابق واقعہ ٹرین نمبر34531(کاننگ سیلدھ) میں پیش آیاہے۔

ہلدار جس کا تعلق جنوبی 24پرگنا کی بسنتی سے ہے‘ نے کہاکہ انہوں نے واقعہ کی شکایت سب سے پہلے تو پاسیا پولیس اسٹیشن میں کرانے کے لئے پہنچے جہاں پر بتایاگیا کہ گورنمن ریلوے پولیس میں شکایت کرائی جائے گی جو اس پر کاروائی کے مجاز ہیں

۔ریلوے پولیس کے مطابق بالگونگی ریلوے اسٹیشن کے تحت ائی پی سی کی دفعہ 341‘323‘325‘506اور 34کاایک مقدمہ درج کیاگیاہے۔

جب انڈین ایکسپریس نے پولیس کے عہدیداروں سے کلکتہ میں بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی جانچ کی جارہی ہے

۔ریلوے پولیس افیسروں نے کہاکہ ایک مرتبہ شناخت ہونے کے بعد شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔