بی آر ایس اور بی جے پی کے اتحاد میں آر ایس ایس رکاوٹ

   

بی ایل سنتوش کو سمن جاری کروانے پر ہندو تنظیم کے سی آر سے ناراض
حیدرآباد۔28فروری(سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد کے درمیان آر ایس ایس رکاوٹ بن رہی ہے!بی جے پی اور بی آر ایس نے مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں اپنے اتحاد کو بڑی حد تک قطعیت دے دی ہے لیکن بی آر ایس دور حکومت میں معین آباد فارم ہاؤز میں ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملہ میں بی آر ایس سربراہ و سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے اختیار کردہ سخت موقف اور آر ایس ایس پرچارک بی ایل سنتوش کو سمن جاری کئے جانے سے آر ایس ایس ناراض ہے اور نہیں چاہتی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت راشٹرسمیتی کے درمیان عام انتخابات کے لئے کسی بھی طرح کا اتحاد ہو۔ ذرائع کے مطابق آر ایس ایس قائدین کا کہناہے کہ کے چندر شیکھر راؤ نے بی ایل سنتوش کی آر ایس ایس سے وابستگی سے واقف ہونے کے باوجود انہیں سمن جاری کرواتے ہوئے ہراساں کیا تھا اسی لئے بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہونا چاہئے ۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی کی خریدی کی کوشش کے منظر عام پر آنے کے بعد اس وقت کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے خفیہ طریقہ سے ریکارڈ کی گئی تمام ویڈیو ریکارڈنگس کو ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کرتے ہوئے بی جے پی کی کوششوں کا پردہ فاش کیا تھا۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل جنوبی ہند کی ریاست تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی بی آر ایس سے اتحاد کے لئے آمادہ ہوچکی تھی اور بی آر ایس نے بھی تلنگانہ کی 17 نشستوں پر بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کی منصوبہ بندی کررہی تھی اور اس سلسلہ میں سربراہ بی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ دہلی کا دورہ کرتے ہوئے بی جے پی کے سرکردہ قائدین سے ملاقات بھی کرنے والے تھے لیکن آر ایس ایس کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے بی آر ایس سے اتحاد کو زیرالتواء رکھا ہے اور کہا جا رہاہے کہ انتخابات سے قبل تک بھی اس مسئلہ پر بی جے پی کی جانب سے انکار بھی نہیں کیا جائے گا۔ سال 2022کے اواخر میں کے چندر شیکھر راؤ نے پریس کانفرنس کے دوران سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے اس کے وقف کے بی جے پی کے انچارج سیکریٹری تلنگانہ بی ایل سنتوش کی ایماء پر ارکان اسمبلی کو خریدے جانے کا الزام عائد کیا تھا بعد ازاں بی ایل سنتوش نے کہا تھا جن لوگوں نے ارکان اسمبلی کی خریداری کی کوشش کے معاملہ میں ان کے نام کو گھسیٹا ہے انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ بی جے پی کے ریاستی قائدین کا کہناہے کہ پارٹی کے قومی قائدین بی آر ایس سے اتحاد کے لئے آمادہ ہیں لیکن کئی وجوہات کی بناء پر وہ اس اتحاد سے گریز کر رہے ہیں جبکہ تلنگانہ کے ہی بعض بی جے پی قائدین کا ماننا ہے کہ اب بی آر ایس میں طاقتور امیدوار بھی نہیں رہے اسی لئے اتحاد کی گنجائش باقی نہیں ہے۔3