17 لاکھ استفادہ کنندگان، 9 لاکھ افراد خاندان کو فائدہ، بھٹی وکرمارکا و دامودر راج نرسمہا کی شرکت
حیدرآباد ۔17 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے سرکاری ملازمین ، پنشنرس اور ان کے افراد خاندان کیلئے نئی ایمپلائیز ہیلت اسکیم کا آج آغاز کیا۔ اسکیم کے تحت 886 خانگی اور114 سرکاری ہاسپٹلس نے کیاش لیس (ادائیگی کے بغیر) 1816 میڈیکل اور سرجیکل پیاکیجس کو شامل کیا گیا ہے۔اسکیم کے استفادہ کنندگان کی تعداد 17 لاکھ 88 ہزار 386 ہے جن میں 438594 سرکاری ملازمین ، 361955 پنشنرس اور 9.38 لاکھ افراد خاندان شامل ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا اور وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے چیف سکریٹری سنجے جاجو کے ہمراہ سکریٹریٹ میں نئی ہیلت اسکیم کا آغاز کیا۔ اسکیم سے متعلق پورٹل جاری کیا گیا۔ استفادہ کنندگان ہیلت کارڈ کیلئے ویب سائیٹ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ویب سائیٹ کے ذریعہ ڈیجیٹل ہیلت کارڈ ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت رہے گی۔ وزیر صحت نے بتایا کہ انشورنس اور دیگر کلیم سیٹلمنٹ کی خدمات کو بھی ڈیجٹلائیزڈ کیا گیا ہے ۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرس اپنے ایمپلائی آئی ڈی اور پاس ورڈ یا پھر او ٹی پی کے ذریعہ ویب سائیٹ سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ حکومت نے نیٹ ورک ہاسپٹلس کی ضلع واری فہرست ویب سائیٹ پر پیش کردی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 29 جون کو ہیلت اسکیم سے متعلق احکامات جاری کئے جس کے تحت ملازمین کی بیسک پے اور پنشنرس کے بیسک پنشن میں سے 1.5 فیصد رقم منہا کی جائے گی ۔ حکومت اسکیم کیلئے مساوی رقم جاری کرے گی۔ اسکیم پر عمل آوری کی ذمہ داری ایمپلائیز ہیلت کیر ٹرسٹ کو دی گئی ہے جس کے سربراہ چیف سکریٹری ہیں ۔ ٹرسٹ میں 17 ارکان کو شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق مختلف محکمہ جات سے ہیں جبکہ ملازمین کے 10 اور پنشنرس کے 3 نمائندے شامل کئے گئے ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے ملازمین اور پنشنرس کے اہم مطالبہ کی تکمیل کی ہے۔ بی آر ایس نے 10 سالہ دور حکومت میں ہیلت اسکیم پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ استفادہ کنندگان کو رقم کی ادائیگی کے بغیر سرکاری اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں علاج کی سہولت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی بھلائی کے لئے حکومت کے اقدامات سے ملازمین اور پنشنرس کا حکومت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ملازمین کی مختلف یونینوں کے نمائندوں نے اسکیم کے آغاز پر حکومت سے اظہار تشکر کیا۔ وزیر صحت نے بتایا کہ 24 اضلاع میں جلد ہی ویلنیس سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔1/k