حیدرآباد /27 نومبر ( سیاست نیوز ) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں اور اسکولس میں سمیت غذا کے استعمال سے طلبہ کی بگڑی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا 30 نومبر سے 7 ڈسمبر تک ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ۔ کے ٹی آر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسکولس کے طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کر رہی ہے ۔ تعلیمی شعبہ بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔ جس کے بعد پارٹی نے تمام اقسام کے اسکولس کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ،ارکان پارلیمنٹ اور ارکان قانون ساز کونسل کے علاوہ پارٹی کے سینئر قائدین خاتون قائدین 8دن تک ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں ماڈل اسکولس گورنمنٹ ریسیڈنشیل اسکولس کالجس کا دورہ کرتے ہوئے تازہ صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ حکومت کی غفلت اور لاپرواہی سے اندرون ایک سال 52 طلبہ اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے ہیں۔ ریسیڈنشیل تعلیمی ادارے اور اسکولی تعلیم ریونت ریڈی دور حکومت میں بحران کا شکار ہوگئی ہے ۔ جس میں 38 طلبہ کی اموات سمیت غذاء کے استعمال سے ہوئی ہے ۔ ریاست میں وزیر تعلیم نہیں ہے ۔ 2
چیف منسٹر کو دہلی کے دورے کرنے کیلئے وقت کافی نہیں ہو رہا ہے ۔ طلبہ کی اموات پر ابھی تک ایک بھی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا گیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں کے بی بی وی ، ماڈل اسکولس کا جائزہ لینے کیلئے بی آر ایس کی مطالعاتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آر ایس پروین کمار کی قیادت میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ کمیٹی تعلیمی اداروں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پارٹی کو ایک رپورٹ پیش کرے گی ۔ رپورٹ کی بنیاد پر بی آر ایس پارٹی اسمبلی اور کونسل میں طلبہ کے مسائل کو موضوع بحث بنائیں گی ۔ 2