اترپردیش میں مجلس اور اسد الدین اویسی کو بڑا جھٹکا ۔ پارٹی کی امیج بدلنے کی کوششیں متاثر ہونگی
لکھنو ۔ یکم ستمبر ( ایجنسیز ) اترپردیش میں ’’ ووٹ کٹوا ‘‘ کی امیج کو بدلنے اور اسمبلی نشستیں جیتنے صدر مجلس اسدالدین اویسی کی کوششوں کو خود ان کی ہی پارٹی کے ترجمان سے ایک بڑا جھٹکا لگنے جارہا ہے ۔ اترپردیش میں اب جبکہ اسمبلی انتخابات چند ماہ کے بعد ہونے والے ہیں ‘ ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی ترجمان سید عاصم وقار مجلس سے قطع تعلق کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں۔ کانگریس بھی اترپردیش میں اپنی سیاسی طاقت منوانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ امکان ہے کہ عاصم وقار چہارشنبہ کو دہلی میں کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں اور یہ اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہوسکتا ہے ۔ پارٹی کے ترجمان کی حیثیت سے عاصم وقار نے اترپردیش کے سیاسی حلقوں میں قابل لحاظ اہمیت حاصل کرلی تھی ۔ ان کے پارٹی چھوڑدینے سے مجلس اتحاد المسلمین کو اترپردیش میں چند نشستیں جیتنے کی کوشش میں مشکل پیش آسکتی ہے ۔ عاصم وقار کے تعلق سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ یو پی ایم آئی ایم کی جانب سے کئے گئے کچھ فیصلوں سے ناراض ہیں۔ مجلس میں شمولیت سے قبل عاصم وقار 20 سال تک سماجوادی پارٹی سے وابستہ رہے تھے ۔ ذرائع نے کہا کہ کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے موجودہ صدر و رکن راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی نے عاصم وقار کو کانگریس میں شامل کروانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ عاصم وقار نے تاحال ان اطلاعات کی نہ توثیق کی ہے اور نہ تردید ۔ اترپردیش میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کا اتحاد ہے ۔ حالانکہ دونوں جماعتوں کے مابین تاحال نشستوں کی تقسیم پر کوئی رسمی بات چیت نہیں ہوئی ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ اہم چہروں کی شمولیت سے کانگریس کو زائد نشستیں حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ذرائع کے بموجب کانگریس پارٹی سابق مرکزی وزیر کوشل کشور سے بھی رابطے میں ہے ۔ اسد الدین اویسی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ یو پی میں کتنی نشستوں سے مقابلہ کرینگے انہوں نے تاہم واضح کیا تھا کہ ان کی پارٹی مقابلہ کرے گی اور نشستوں پر جیت حاصل کرے گی۔