Tuesday , October 22 2019

ترولوک پوری میں دومردہ گائے ملنے کے بعد پولیس کی تعیناتی

صبح تقریبا6:30بجے کے قریب ایک پی سی آر کال تالاب کے قریب دو مردہ گائیو ں کے مختلف اضلاع بکھرے پڑے رہنے پر آیا۔

ڈی سی پی ایسٹ جسمیت سنگھ نے کہاکہ”حالات نہایت حساس ہوگئے تھے۔

تمام چیزوں کو 9:30تک قابو میں کرلیاگیا۔ ستر پولیس جوانوں کو تعینات کردیاگیا۔ ہم چوکناہے پٹرولنگ جاری ہے“۔

نئی دہلی۔ رائے دہی سے عین ایک روزقبل ایسٹ دہلی کے سنجے گاندھی تالاب کے قریب دو مردہ گائے کے باقیات ملے‘ جس کے بعد دہلی پولیس نے چہارشنبہ کے روز ترلوک پوری کوٹلہ گاؤں میں ستر پولیس جوانوں کی تعیناتی کردی۔

صبح تقریبا6:30بجے کے قریب ایک پی سی آر کال تالاب کے قریب دو مردہ گائیو ں کے مختلف اضلاع بکھرے پڑے رہنے پر آیا۔

ڈی سی پی ایسٹ جسمیت سنگھ نے کہاکہ”حالات نہایت حساس ہوگئے تھے۔ تمام چیزوں کو 9:30تک قابو میں کرلیاگیا۔

ستر پولیس جوانوں کو تعینات کردیاگیا۔ ہم چوکناہے پٹرولنگ جاری ہے“۔ائی پی سی کی دفعہ 429اور میویشیوں کی حفاظت کے متعلق ایکٹ کے سیکشن 11کے تحت ایک مقدمہ نامعلوم لوگوں کے خلاف پانڈونگر پولیس اسٹیشن میں درج کرلیاگیاہے۔

مذکورہ گائے 55سالہ ڈائیری مالک رائے سنگھ کی تھیں اور منگل روز11:30کے قریب انہوں نے اپنے میویشیوں کی گنتی بھی کی تھی۔ سنگھ نے کہاکہ ”رات میں تمام پندرہ گائیں شیلٹر میں تھیں۔ جب میں 3:50کو جاگا تو دیکھا کہ شیلٹر کا دروزہ کھولا ہے۔

میں نے دیکھا دوگائے لاپتہ ہیں۔ میں لارم بجایا اور تلاش شروع کی۔ ایک گائے حاملہ تھی اوراگلے ماہ ڈیلیوری متوقع تھی۔ ہم نے اس کے باقیات سنجے گاندھی تالاب کے قریب دیکھے اور پولیس کو اس کی جانکاری دی“۔

پچھلے چھ دہوں سے ان کا خاندان ڈئیری کے کاروبار میں ہے۔ سنگھ کی بیوی50سالہ راجیش دیوی نے کہاکہ ”میں نہیں جانتی کس نے یہ کام کیاہے۔

ہم دوسری کمیونٹی کے کسی پر بھی شبہ نہیں کرسکتے۔

ایک پڑوسی اس کے پس پردہ ہوسکتا ہے‘ کیونکہ اس پلاک کو شیڈ کی طرح استعمال کرنے پر اس کو اعتراض ہے“۔

ایمرجنسی کے دوران سنجے گاندھی سلم کلیرنس مہم کے بعد 1976کے بعد مذکورہ ترلوک پوری کی کالونی کی بازآبادکاری عمل میں ائی تھی۔ مسلمان‘ والمیکی‘ سکھ اس علاقے میں مقیم ہیں اور 1984کے مخالف سکھ فسادات میں چارسو کے قریب مارے گئے تھے۔

سال2014میں بھی فسادکے بعد فرقہ وارانہ منافرت کی یہاں پر آگ لگی تھی‘ اس کے بعد سے ترولوک پوری میں تہواروں کے موقع او رمعمولی واقعات پر کئی مرتبہ جھڑپیں رونما ہوتی رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT