ترک صدر نے اقوام متحدہ میں پھر مسئلہ کشمیر اٹھایا

   

نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر نے کہا کہ وہ کشمیر میں بھی انصاف پر مبنی مستقل امن اور خوشحالی کے قیام کے لیے دعاگو ہیں۔ اس سے قبل ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان پرنکتہ چینی کرتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردغان نے عالمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے حل پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسی مسئلے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ابھی تک امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔ترک صدر نے ابھی حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ہندوستانی پی ایم مودی سے ملاقات کی تھی اور اس کے چند روز بعد ہی ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران رجب طیب اردغان نے جہاں کئی عالمی امور پر بات کی وہیں کشمیر کے حوالے سے خطے میں پائی جانے والی بے چینی کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے 75 برس قبل اپنی آزادی حاصل کر کے خود مختاری قائم کی تھی، اس کے بعد بھی ایک دوسرے کے درمیان اب تک امن اور یکجہتی قائم نہیں ہوپا ئی ہے ،یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے۔ ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ کشمیر میں بھی انصاف پر مبنی مستقل امن اور خوشحالی قائم ہو۔ترک صدر کا یہ تازہ بیان پی ایم مودی سے ملاقات کے محض چند روز بعد آیا ہے۔