تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی سروے کی ستائش: راہول گاندھی

   

سماجی مسائل کی یکسوئی و منصوبہ بندی میں معاون‘ یوم دستور پر تقریب سے خطاب

حیدرآباد۔26۔نومبر(سیاست نیوز) قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی نے سمودھان دیو س کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران حکومت تلنگانہ کی جانب سے کروائے جانے والے ذات پات کے سروے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں موجود تمام طبقات کی جانکاری اور ان کی حالت زندگی کے سلسلہ میں معلومات حاصل کرنے کے لئے حکومت تلنگانہ نے جو کام شروع کیاہے وہ سماج کے مسائل کو سمجھتے ہوئے اسے حل کرنے کی منصوبہ بندی میں انتہائی کارکرد ثابت ہوگا۔ انہوں نے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں منعقدہ ’سمودھان دیوس‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دستور کو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ دستور کے محافظ ابھی باقی ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں جاری سروے کے دوران دریافت کی جانے والی معلومات کے سلسلہ میں کہا کہ یہ سوالات حکومت یا عہدیداروں نے تیار نہیں کئے ہیں بلکہ عوام کے نمائندوں اور عوامی شخصیات سے مشاورت کے بعد تیار کئے گئے ہیں تاکہ عوام کی تمام تر معلومات حاصل کرنے کے بعد ان کی تعداد کے مطابق ان کی حصہ داری کو یقینی بنایا جاسکے۔ مسٹرراہول گاندھی نے کہا کہ ہندستان میں 90 فیصد آبادی دلت‘ قبائل‘ پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی ہے لیکن ملک کے اثاثہ جات پر ایک مخصوص طبقہ اپنا حق جتا رہا ہے اسی لئے انہو ںنے جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری کے نظریہ کو پیش کیا ہے اور جہاں کہیں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوگا ان ریاست میں حکومت کی جانب سے اس سروے کے ذریعہ سماج کا ایکسرے نکالا جائے گا تاکہ انہیں برابری کا حق دیا جاسکے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں جس انداز میں سروے کروایا جارہا ہے اس سے وہ تمام حقائق اب منظر عام پر آئیں گے جن کی اب تک پردہ پوشی کی جاتی رہی ہے۔ راہول گاندھی نے ملک کے دستور کو ہندوستان کے کامل نظریہ کی عکاس کتاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب کو وزیر اعظم نریندر مودی نے نہیں پڑھا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ دستور کا اگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو اس میں ہندوستان کے تمام معمار وں کے نظریات ملیں گے جو سماجی انصاف ‘ معاشرتی مساوات ‘ قومی یکجہتی کے نظریات پر مبنی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ دستور کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ہی ملک میں جمہوری اصولوں کو برقرار رکھا جاسکتا ہے اور جو دستور سے ہی ناواقف ہیں وہ آزاد ہندوستان کے نظریات کے فروغ پر توجہ دینے کے بجائے ملک میں شورش پیدا کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں۔ راہول گاندھی کی جانب سے ذات پات پر مبنی مردم شماری کی بھر پور حمایت کو بی جے پی کے قائدین شدید تنقید کا نشانہ بنانے رہے ہیں ۔ بی جے پی قائدین کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ذات پات کی مردم شماری کے ذریعہ کانگریس پارٹی سماج میں پھوٹ ڈالنے کا کام کررہی ہے ۔
3