تلنگانہ میں مردم شماری کے عمل’خودشماری‘ میں سردمہری

   

صرف 3 فیصد خاندانوں کا رجسٹریشن ، پیر سے عملہ گھر گھر پہونچنا شروع کردیا
حیدرآباد ۔ 11 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ملک بھر میں جاری مردم شماری کے اہم مرحلے خود شماری ( Self Enumeration ) میں تلنگانہ کے عوام کی عدم دلچسپی نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ 26 اپریل سے شروع ہونے والا یہ آن لائن عمل اتوار کو رات 12 بجے ختم ہوگیا ہے اور آج سے عملہ تین دنوں تک گھروں کی میاپنگ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل چکا ہے اور گھر گھر پہونچکر ارکان خاندان اور دیگر تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہوگیا ہے ۔ تاہم ریاست میں خود شماری کا عمل انتہائی مایوس کن رہا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے تقریبا 1.30 کروڑ خاندانوں میں تقریبا 4 لاکھ خاندانوں ( محض 3 فیصد ) نے اپنی تفصیلات آن لائن میں رجسٹر کی ہیں ۔ اس کے برعکس آندھرا پردیش ، ہریانہ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں 85 لاکھ سے زائد خاندان اس عمل میں حصہ لے چکے ہںے ۔ حکام کا خیال ہے کہ اس عمل کے رضاکارانہ ہونے کی وجہ سے تقریبا 97 فیصد لوگوں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے ۔ عہدیداروں کے لیے سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ریاست میں تقریبا 10 لاکھ آئی ٹی ملازمین ہونے کے باوجود ڈیجیٹل رجسٹریشن کی شرح بہت کم ہے ۔ اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل میں جہاں تعلیم یافتہ طبقے کی بڑی تعداد مقیم ہیں وہاں بھی صرف 80 ہزار تک خاندانوں نے رجسٹریشن کرایا ہے ۔ ریاست میں سب سے زیادہ ضلع میڑچل میں 42,995 خاندان نے آن لائن رجسٹریشن کرایا ہے جب کہ سب سے کم ضلع ملگ میں 1600 خاندانوں نے رجسٹریشن کرایا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مردم شماری کے شمار کنندگان ( Enumerators ) نے آج سے گھر گھر پہونچنے کا عمل شروع کرچکے ہیں ۔ یہ سلسلہ 9 جون تک جاری رہے گا ۔ اگر لوگ خود آن لائن رجسٹریشن کرچکے ہیں تو ان کا آدھے سے زیادہ کام ہوجائے گا ۔ براہ ریاست اندراج کی صورت میں ہر خاندان کو ایک سے دو گھنٹے کا وقت دینا پڑے گا ۔۔ 2/m/b