نوئیڈا سے فرید آباد تک ہنگامہ آرائی، پولیس پرسنگباری‘ گاڑیاں نذر آتش
نئی دہلی۔13؍اپریل(ایجنسیز) دہلی سے متصل اترپردیش کے نوئیڈا کے مختلف علاقوں میں پیر کے روز کئی کمپنیوں کے ملازمین تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ گزشتہ 3تا4 دنوں سے جاری یہ احتجاجی مظاہرے پیر کو اس وقت شدت اختیار کر گئے جب مشتعل ملازمین نے کئی اہم سڑکیں بلاک کردیں اور ٹریفک بندوبست کو ٹھپ کردیا۔پولیس نے مشتعل ہجوم پر قابو پانے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ملازمین کے اہم مطالبات میں تنخواہ 13ہزار روپے سے بڑھاکر 20ہزار روپے کرنا، اوور ٹائم کی ادائیگی اور چھٹیوں کا انتظام شامل ہیں۔ آج مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دیں اور کئی مقامات پر گاڑیوں کے آگے لیٹ کر ٹریفک روک دیا۔ ملازمین کلسیرہ سے فیز 2 تک مارچ کرتے ہوئے ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ پولیس فورس جائے وقوعہ پر تعینات ہے اور صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔ دریں اثنا سیکٹر 60 میں ملازمین نے نعرے لگاتے ہوئے سڑک بلاک کر دی اور جم کر ہنگامہ اور مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کی وجہ سے نوئیڈا کے کئی علاقوں میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ۔ اس وجہ سے ہفتے کے پہلے کام کے دن لوگوں کو خاصی تکلیف کا سامنا ہے اور بہت سے لوگ وقت پر اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ پا ئے۔ دفتر جانے والوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی کے ساتھ فرید آباد کے سیکٹر 37 سرائے خواجہ علاقے میں ایک پرائیویٹ کمپنی کے 500 سے زائد ملازمین نے کمپنی کے باہر احتجاج کیا اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔اس سلسلہ میں تقریباً 100 احتجاجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ حکام نے بتایا کہ ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی اس مسئلہ پر ورکرس یونینوں اور فیکٹری مالکین سے بات چیت کرے گی۔ یوپی حکومت نے تشدد کی تحقیقات کے لئے ایک پیانل تشکیل دیا ہے۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر احتجاج سے متعلق غلط اطلاع دینے پر ایف آئی آر بھی درج کیا ہے۔ H/A