Tuesday , September 29 2020

جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبہ پر گولی چلانے والے کو نابالغ کے طور پر پیش کیاجارہا ہے

مذکورہ پولیس نے اب تک گولی چلانے والے خلاف صرف اقدام قتل کا ہی مقدمہ درج کیاہے

نئی دہلی۔ مذکورہ بندوق بردار جس نے خود کو بطور ”رام بھگت گوپال“ کی حیثیت سے پیش کیا ہے کی عمر پر توجہہ مرکوز کی جارہی ہے اور جمعرات کے روز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قریب میں ہوئی فائرینگ سے اٹھانے والے سوالات کی پردہ پوشی اور اس کی شناخت پر پردہ دالنے کے لئے نابالغ کے طور پر پیش کرنے کا سہارا لیاجارہا ہے۔

جس نے ”رام بھگت گوپال“ کو پیسہ ادا کیا ہے لہذامبینہ نابالغ کو دس ہزار روپئے ادا کریں (جو مارکٹ کی خودساختہ قیمت سے زیادہ ہے)تاکہ دیسی ساختہ پستول نوائیڈا میں خریدسکے‘جو اترپردیش کا حصہ ہے مگر عملی کاموں کے لئے دہلی میں ہے۔

اترپردیش سے تعلق رکھنے والے مذکورہ بارہویں جماعت کے طالب علم کی کے والدین کی کوئی آمدنی نہیں ہے اور انہوں نے خود ہی کہا ہے کہ وہ اس کو پیسے نہیں دیتے۔

پھر اس کو پیسے کس نے دئے؟۔ایسا لگ رہا ہے کہ شہری درالحکومت کے قریب کسی مارکٹ سے اس نے بندوق خریدی ہے۔

کیایہ حقیقت میں بچوں کا کھیل ہے کہ جس میں بندوق پکڑ کر وہ ملک کے سب سے محفوظ شہر کے قریب میں ائے اور ایسا ایک آتشی اسلحہ لے کر بغیر پکڑے گھومتا رہے؟

اگر ایسا ہے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کے تحت لاء اینڈآڈر کے متعلق کیاکہیں گے جنھوں احتجاجیوں کو جنگی خطوط پر روکا مگر کیا وہ ”نابالغوں“ کو ہاتھوں میں ہتھیار لے کر گھومنے کا موقع فراہم کریں گے؟“۔

مبینہ طور پر ”رام بھگت گوپال“ نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ایک ہتھیار بند ہندوتوا برگیڈ کے شعور بیداری پروگراموں“ میں شرکت کی ہے۔ مذکورہ تنظیم نے واضح طور پر ”رام بھگت“ کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے۔

گولی چلانے والے کی عمر پر شدید دباؤ ایک اور تفصیل کو چھپاتی ہے۔

اس کی مبینہ مارکس شیٹ او رادھار کارڈ جس کو کرشماتی طور پر بہت کم وقت میں پولیس میں حاصل کرلیا جو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر گولی چلاتے وقت خامو ش تماشا ئی بن کر کھڑی ہوئی تھی‘ اس میں تاریخ پیدائش 8اپریل2002دیکھائی دے رہی ہے۔

جس کا مطلب ہے کہ جرم کے وقت وہ 18سال کی عمر میں سن بلوغ کو پہنچے کے لئے محض دو ماہ 69دنوں کا چھوٹا ہے۔ گولی چلانے والے نابالغ ہے یا نہیں اس کی تحقیقات کے لئے ایک طبی جانچ کرائی جائے گی۔

حالانکہ اس طرح کے گھناؤنہ جرم کو انجام دینے کے لئے ایک سولہ مشتبہ کے ساتھ بالغ جیسے سلوک کیاجانا چاہئے۔

اگر اس جرم کے لئے سات سال جیل میں گذارنے کی کم سے کم سزا دی جاتی ہے (گولی چلانے والے نے جو کام کیاہے)جونائیل جسٹس بورڈ تین زاویہ سے اس گھناؤنے عمل کی جانچ کرے گا۔

آیا کیا ملزم ذہنی اور جسمانی طور پر اس قسم کے جرم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ آیا کیا ملزم اس کے نتائج کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ آیاکہ کن حالات میں یہ جرم انجام دیاگیا ہے۔

بچوں کی ایک نامزد عدالت میں اس پر حتمی فیصلہ کیاجائے گا۔مذکورہ پولیس نے اب تک گولی چلانے والے پر اقدام قتل کا مقدمہ ہی درج کیاہے۔

مگر متعدد مخالف سی اے اے احتجاجیوں پر ملک سے غداری کے مقدمات درج کئے گئے ہیں وہ تقریریں کرنے اور ریالیوں کی قیادت کرنے پر یہ کام کیاگیاہے۔

دہلی پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بندوق بردار نے تحقیقات کرنے والے افسروں کو بتایا کہ جرم انجام دینے سے دودن قبل ہی اس نے نوائیڈا سے یہ پستول خریدی ہے۔

مذکورہ افیسر نے کہاکہ ”پوچھ تاچھ کے دوران نوائیڈا میں ایک گینگ کے پاس سے دس ہزار روپئے میں بندوق خریدنے کا دعوی کیاہے مگر اس نے پیسے کہاں سے ائے اس کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے۔

اب تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ اس نے کیوں دس ہزار روپئے پستول کے لئے دئے‘ جس کی عام طور پر قیمت 2500سے 4000روپئے اترپردیش اوراین سی آر کے کالے بازار میں ہے“۔

مذکورہ افیسر کا کہنا ہے کہ عام طور پر حملہ آور بھڑکاؤ تقریر یں سنتا ہے اور اس کو شیئر بھی کرتا ہے اور اس نے نومبر2019میں بجرنگ دل کی جانب سے منعقدہ جیوار پروگرام میں بھی شرکت کی ہے۔

بجرنگ دل کسی قسم کے تعلق سے انکار کیاہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بندوق بردار کے ساتھ فی الحال ”نابالغ“ کی طرح سلوک کیاجارہا ہے۔

اس کو بچوں کی عدالت میں پیش کیاگیاتھا جہاں سے 14دنوں کی عدالتی تحویل میں اس کو بھیج دیاگیا ہے۔ ایک افیسر نے کہاکہ ”ہم بورڈ سے اس کی عمر کے متعلق طبی جانچ کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں“

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT