جنترمنتر حاصل کرنے نئی لڑائی

   

روش کمار
مودی حکومت نے دارالحکومت دہلی میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کی خاطر جنترمنتر پر احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا ہے جس پر مختلف گوشوں سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جنترمنتر پر کوئی احتجاج نہیں ہوگا حکومت کے اس فیصلہ کے ساتھ ساتھ جنترمنتر حاصل کرنے کی نئی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ کاکروچ گوریلا طریقوں سے دیوار پھلانگ کر جنترمنتر میں داخل ہوگئے اور نعرے بھی بلند کئے۔ کاکروچوں نے کہا ہیکہ ان کا یہ قدم یہ دکھانے کیلئے ہے کہ جنترمنتر کو دوبارہ حاصل کرلیا گیا ہے واپس لے لیا گیا ہے۔ اتنی سخت سیکوریٹی کے درمیان کاکروچ جنترمنتر میں گھس گئے۔ آشوتوش رانکا، سوروداس، ان کے ساتھیوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حراست میں لئے جانے کے بعد کاکروچوں نے کہا کہ دوستو ہم نے جو وعدہ کیا تھا ہم اس پر قائم ہیں جب تک گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیں گے تب تک جنترمنتر پر ہی احتجاج ہوگا۔ آج دس لوگ آئے ہیں کل ہزار آئیں گے پرسوں دس ہزار لوگ آئیں گے۔ ہم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دے دیتا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے جنترمنتر کو احتجاجی مظاہروں کیلئے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ڈی نوٹیفائیڈ کرکے ملک کو لڑائی کا ایک اور موضوع دیا ہے۔ سب نے دیکھا کہ GEN-Z کے احتجاجی مظاہروں کیلئے کس طرح دہلی میں کئی کئی ہزار فورس کی تعیناتی کردی گئی۔ جنترمنتر بھی اب لے لیا گیا۔ اس جنترمنتر پر احتجاجی مظاہروں کے حق کو حاصل کرنے کیلئے ممتاز وکلا کپل سبل، سنیتاراماکرشنن، پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، نیہابورا اور کئی وکیلوں نے مارچ کیا۔ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ جنترمنتر پر قبضہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ یہاں سے شہریوں کو دور کیا جارہا ہے۔ 7 اکٹوبر کو راہول گاندھی اور انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمان نے اسی جنترمنتر کو حاصل کرنے کی ایک بڑی کوشش کی مگر انہیں پہنچنے نہیں دیا گیا اور اب حکومت کا یہ فیصلہ آگیا ہیکہ دہلی میں صرف تین مقامات پر ہی احتجاج ہوسکیں گے جن میں رام لیلا میدان، بوراڑی اور سی بی ڈی گراونڈ شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کا یہ فیصلہ ہے۔ اگر حکومت کو یہ منظور نہیں کہ عوام جنترمنتر پر آئیں اور دکھائی دیں تو اسے خلاء میں احتجاجی مظاہروں کا ایک مقام مقرر کردینا چاہئے تاکہ مظاہرہ کرنے والی عوام کبھی دکھائی ہی نہ دے۔ یہ بات مذاق میں نہیں کہہ رہے ہیں جس طرح جنترمنتر کو احتجاجی مظاہروں سے اور لوگوں سے الگ کیا گیا ہے۔ اس کا جواب صرف یہی ہوسکتا ہے نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سا منے جب دنیا بھر کے وزرائے اعظم اور صدور آتے ہیں تب بھی وہاں آس پاس دھرنا چل رہا ہوتا ہے۔ انہیں ہٹایا نہیں جاتا اور نہ شہر سے باہر گھسیٹ کر نیویارک سے باہر کرکے کیلیفورنیا بھیجا جاتا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے بالکل سامنے احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ آج تک ہورہے ہیں۔ امریکی صدر جہاں رہتے ہیں اس وائیٹ ہاؤز کے سامنے لوگ احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے خلاف نعرے لگاتے ہیں جنگ اور عام تباہی کے ہتھیاروں کے خلاف وہاں 1981 سے ایک احتجاج جاری ہے اسے امریکہ کی تاریخ کا سب سے طویل سیاسی احتجاج مانا جاتا ہے۔ ٹرمپ کو اب تک یہ آئیڈیا نہیں آیا کہ وائیٹ ہاؤز کے سامنے سے ان تمام کو ہٹا کر دہلی کی سرحد بوراڈی پہنچادیتے ہیں۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور یہاں احتجاج کرنے کا مقام دنیا کے دوسرے ممالک کی بہ نسبت بہت دور منتقل کی کیا جارہا ہے۔ مودی حکومت آپ کے گلے میں ایک ایسا ہار ڈال رہی ہے جسے آپ باہر نہیں پہن سکتے کسی اور کو بڑے فخر سے نہیں دکھا سکتے۔ میرے خیال سے اقوام متحدہ کو اپنا ہیڈکوارٹر بوراڈی میں ہی بنا لینا چاہئے تاکہ لوگ دنیا بھر سے آکر وہیں احتجاج کریں کسی کو دکھائی نہ دیں۔ سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے کی جگہ بنائی گئی ہے تاکہ دنیا بھر سے آکر لوگ وہاں احتجاج کرسکیں وہاں بھی کسی نے نہیں کہا کہ اب آپ یہاں احتجاج بند کردیجئے آپ کیلئے بوراڈی میں جگہ بنادی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر سے آیوش نے بتایا کہ ٹھیک اس کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں تاکہ جو بھی یہاں احتجاج ہوگا وہ ہیڈکوارٹر سے بھی دکھائی دے۔ وہاں ہندوتوا انتہاء پسندی کے خلاف پوسٹر لگا ہے 2020ء میں یہ مناظر کیمرے میں قید کئے گئے تھے کیا حکومت ہند ان پوسٹرس کو یہاں سے ہٹا سکتی ہے؟ ایسے احتجاجی مظاہروں کو رکوا سکتی ہے؟ دہلی پولیس کا بس چلے تو جنیوا کے اس احتجاجی مقام کو بھی بوراڑی بھیجوادیا جائے۔ اقوام متحدہ دفتر کے سامنے ایک بہت بڑی کرسی نصب کی گئی ہے۔ اس کی بھی ایک کہانی ہے۔ جب دنیا بھر میں بارودی سرنگ بچھائی جاتی ہے کلسٹر بم برسائے جاتے ہیں تو لاکھوں لوگ معذور ہوجاتے ہیں۔ یہ کرسی دنیا کی حکومتوں کو یاد دلاتی ہے کہ بارودی سرنگ نہ بچھائیں اس کرسی کو سوئٹزرلینڈ کے ڈائنل بیسٹ نے ڈیزائن کیا اور کارپنٹر لوئس نے بنایا۔ 1997 سے یہ کرسی وہاں موجود ہے۔ دہلی پولیس ہوتی تو اسے ہٹا کر لاجیت نگر فرنیچر مارکٹ بھیج دیتی اور اس کی لکڑی سے اپنے لئے کیل والی لاٹھیاں بنوالیتی۔ سولنکی نے ایسے ویڈیو میں ایک بات کہی دکھائی دینے کی یعنی کسی بھی احتجاج کا مقصد ہوتا ہے دکھائی دینا بھی یہ اس احتجاج کا حصہ ہوتا ہے۔ حکومتوں کو بھی دکھائی دے اور بااثر لوگوں کو بھی اور وہاں سے گذر رہی عوام کو بھی دکھائی دے۔ ملک اور دہلی کے لوگوں کیلئے جنترمنتر کے احتجاجی مظاہروں کا مطلب اسی Visebility کو حاصل کرنا ہے جسے گودی میڈیا اور حکومتیں دیکھنے سے اور دکھانے سے انکار کردیتی ہیں۔ اگر جنترمنتر کو آپ ہٹا کر بوراڈی کردیں گے، رام لیلا میدان کردیں گے تب پھر اس کا مطلب نہیں رہ جاتا۔ جب امریکہ کے صدر کے وائیٹ ہاؤز کے باہر احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں تو جنترمنتر پر کیوں نہیں ہوسکتا۔ کیا صدر ٹرمپ کو کم خطرہ ہے؟ اقوام متحدہ میں جمع ملکوں کے سفیروں کو کم خطرہ ہے؟ چالیس ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کے بعد بھی جنترمنتر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وائیٹ ہاؤز کے سامنے تو اس کی 25 فیصد پولیس بھی دکھائی نہیں دیتی۔ آپ وائیٹ ہاؤز کے گیٹ پر مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اتنے قریب جاکر لیکن دہلی میں اب اگر احتجاج کرنا ہوگا تو آپ کو جنترمنتر سے 20 کیلو میٹر دور بوراڈی گراونڈ جانا ہوگا یہ مذاق نہیں بھدا مذاق ہے جب سے حکم آیا ہے کہ جنتر منتر پر احتجاج نہیں ہوگا تب سے یہاں ہوئے احتجاجی مظاہروں کی تاریخ بتائی جانے لگی ہے۔ فوج کے لوگ بھولے تو نہیں ہوں گے جب 2014ء میں مودی حکومت نے وعدہ کیا کہ حکومت میں آتے ہی ون رینک ون پنشن دے دیں گے آنے کے ایک سال تک نہیں دیا تو 2015ء میں ریٹائرڈ فوجی عہدیدار دھرنا پر بیٹھ گئے۔ وہ مہینہ بھی جون کا تھا اور انہیں 320 دنوں تک دھرنا پر بیٹھنا پڑا۔ گودی میڈیا کی آرکائیوز میں جاکر دیکھئے تب ان ہی فوجی عہدیداروں کے خلاف کوریج ہونے لگا مباحث میں انہیں نشانہ بنایا جانے لگا۔ جن فوجی عہدیداروں کو اسٹوڈیو میں بٹھا کر وہی گودی میڈیا دن رات شہریوں کو ملک دشمن قرار دیتا رہتا ہے جب کئی دنوں تک حکومت نے ان سنی کردی تب راہول گاندھی بھی تائید و حمایت کرنے گئے مگر مودی حکومت کے خوف کی وجہ سے راہول گاندھی کو اسٹیج پر آنے نہیں دیا گیا۔ ان کی مخالفت کی گئی۔ ان کے خلاف نعرے لگے کہ راہول گاندھی واپس جاؤ۔ راہول گاندھی جنترمنتر سے لوٹ آئے۔ 14 اگست 2015ء کو یوم آزادی پر وہاں 60 دنوں سے دھرنا دے رہے سابق فوجی عہدیداروں کے ساتھ کیا کیا گیا اس وقت کے اخبارات اور چینلوں میں اس کی ریکارڈنگ یا خبر درج ہے۔ پولیس نے دھرنا پر بیٹھے فوجی عہدیدار کو گھسیٹ کر دھکے دے کر اٹھایا اور اس دھکہ مکی میں ان کی وردی کی جیب پھٹ گئی جس پر میڈل لٹکے تھے۔ فوجیوں نے اسے فوج کی توہین اور ظلم قرار دیا۔ ہنگامہ مچا۔ فوج کے تینوں شعبوں کے سربراہوں نے صدرجمہوریہ کو اس کے خلاف مکتوب لکھ دیا۔ دہلی پولیس کے اس وقت کے جوائنٹ کمشنر مکیش کمار مینا نے باقاعدہ پولیس کی طرف سے معذرت خواہی کی اور کہا کہ ہم الجھن کا شکار ہوگئے تھے۔ 2015ء کے احتجاج کے بعد ون رینک ون پنشن اسی سال نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ فوجی عہدیدار اس پالیسی کے خلاف عدالت سے رجوع ہوگئے اور 2016ء میں پھر سے دھرنا پر بیٹھ گئے۔ تب وہ دھرنا 868 دنوں تک چلا۔ 2015ء میں راہول گاندھی واپس جاؤ کے نعرے لگے لیکن 2016ء میں راہول گاندھی پھر سے جنترمنتر جاتے ہیں۔ تین تین بار پولیس انہیں جانے سے روکتی ہے بعد میں راہول گاندھی نے احتجاجی سابق فوجیوں سے کانگریس دفتر میں ملاقات کی تھی۔ 868 دنوں سے چلا آرہا احتجاج ایک دن اچانک اجاڑ دیا گیا مگر اس بار دہلی پولیس الجھن کا شکار نہیں ہے۔ جنترمنتر پر مودی حکومت کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2015ء میں ون رینک ون پنشن کو لیکر جو احتجاج ہوا اس کے بعد مودی سرکار کو لاگو کرنا پڑا جو لائی 2026ء میں نیٹ پیپر کو لیکر جنترمنتر پر جو احتجاج ہوا اس کے بعد دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ 33 سال سے جنترمنتر پر احتجاجی مظارہے ہورہے ہیں کتنی ہی حکومتیں آئی اور چلی گئیں۔