جیش کے دہشت گرد جس کی گاڑی کا استعمال پلواماں سی آر پی ایف قافلے پر حملے میں کیاگیاتھاوادی کے اندر مد بھیڑ میں ہلاک

Secirity personnal near awantipora blast site. Express Photo by Shuaib Masoodi 14/02/2019

اننت ناگ میں مدبھیڑ کے دوران دو دہشت گردوں اورجوان کی موت۔ جموں کشمیر کے سکیورٹی افسروں نے کہاکہ سجاد مقبول بھٹ کی موت ایک بڑی کامیابی ہے

اننت ناگ۔سکیورٹی عہدیداروں کووادی میں اسو قت ایک بڑی کامیابی ہاتھ لگی جب 14فبروری کے روز پلواماں میں سی آر پی ایف قافلے پر حملے کے لئے استعمال کی گئی کار کا مالک جیش محمد کا دہشت گرد سجا مقبول بھٹ کو ایک دیگر دہشت گرد کے ساتھ جنوبی کشمیر میں ڈھیرکردیاگیا۔

چوبیس گھنٹوں سے زیادہ وقت تک چلنے والی اس مدبھیڑ میں پیر کے روز ضلع اننت ناگ میں ایک بڑے اور ایک دہشت گرد کی ہلاک کے بعد اس واقعہ میں ایک فوجی فوج کی بھی موت واقع ہوگئی۔

سری نگر کے ڈیفنس ترجمان کرنل رجیش کالیا نے کہاکہ ”ایک افیسر کی پریس ریلیز اور جموں کشمیر پولیس کے مطابق اننت ناگ ضلع کے بیج بہارا علاقے میں واقع مرہما گاؤں میں کارڈن اینڈسرچ اپریشن انجام دیا گیاتھا۔

اسی دوران یہاں پر دہشت گردوں کی جانب سے سکیورٹی دستوں پر فائرینگ کے بعد مدبھیڑ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی“۔

پولیس نے کہاکہ ”اس ہولنا ک انکاونٹر میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور موقع پر سے دونوں دہشت گردوں کی نعش تحویل میں لی گئی گئی ہیں“۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ وہ لوگ کسی رہائشی گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ایک سپاہی بھی اس واقعہ میں زخمی ہوگیاہے۔

پولیس نے کہاکہ ”زخمی حالت میں علاج کے لئے اسپتال لے جانے پر جوان کوشہید قراردیاگیا۔

اپنے خدمات کی انجام دہی کے دوران عظیم قربانی دینے والے جوان کو ہم خراج پیش کرتے ہیں“۔

دونوں متوفی دہشت گردوں کی شناخت سجاد مقبول بھٹ اور توصیف احمد بھٹ کی حیثیت سے جو اسی گاؤں کے ساکن تھے جہاں پر مدبھیڑ کا واقعہ پیش آیاتھا۔

پولیس ریکارڈس کے مطابق اسی سال پلواماں میں سی آر پی ایف جوانوں کے قافلے پر حملے کے اٹھ روز بعد22 فبروری کے روز سجاد عسکری تنظیم میں شامل ہوکر اہم مقام حاصل کیاتھاجبکہ توصیف نے مئی 2018میں دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جموں کشمیر پولیس نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ ”تحقیقات کے دوران‘ یہ بات سامنے ائی ہے کہ ماروتی ایکو گاڑی جس کا استعمال لیتھ پورا کے حملے میں کیاگیاتھا سجاد کے

حملے میں شامل ہونے کی خبر پھیلنے کے ساتھ یہ جانکاری ملی کہ ووہ سجاد کی ذاتی گاڑی تھی‘اسکے بعد وہ فرار ہوگیا اور جے ایم میں شمولیت اختیار کرلی۔

سوشیل میڈیا پر سجا د کے ہاتھوں میں اے کے 47رائفل والے ایک تصوئیر بھی گشت کرتے ہوئے اس کی عسکری تنظیم میں شمولیت کا اعلان کیاگیاہے“۔

کرنل کالیا بھی کہاکہ”سجاد ان لوگوں میں سے ایک جنھوں نے پلواماں دہشت گرد حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا انتظام کیاتھا“۔جموں کشمیرپولیس کے ایک سینئر افیسر نے کہاکہ سجاد کی موت سکیورٹی دستوں کے لئے ایک”بڑی کامیابی ہے“۔

مذکورہ جموں کشمیر پولیس نے کہاکہ توصیف نے سجاد کی شدت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کرانے میں کافی اہم رول ادا کیاہے او ردونوں علاقے میں مختلف واقعات میں مطلوب بھی تھے۔

اس کے علاوہ منگل کے روز پلواماں میں پیش کے روز فوجی گاڑی سے ایک ائی ای ڈی کار ٹکرانے کی وجہہ سے پیش ائے دھماکے میں زخمی دو جوان اسپتال میں علاج کے دوران ہلاک ہوگئے۔

وادی میں رونما ہونے والے علیحدہ واقعات میں 12جون سے لے کر اب تک دس جوان ہلاک ہوگئے ہیں۔ سی آر پی ایف او رجموں کشمیر کے پانچ جوان چہارشنبہ کے روز اننت ناگ میں پیش ائے مدبھیڑ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT