حج کوٹہ میں 25000 کا اضافہ ، مسلمانوں کو تحفہ

ہندوستان میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ،نریندر مودی اور محمد بن سلمان کی بات چیت

اسی سال سے حج کوٹہ میں اضافہ : مختار عباس نقوی
دہشت گردی اور انتہاء پسندی مشترکہ خطرے
جیش محمد پر کارروائی کیلئے پاکستان پر دباؤ کا امکان

سعودی عرب اور ہندوستان تعلقات تاریخی اور قدیم
وزیراعظم اور سعودی ولیعہد کے پانچ معاہدوں پر دستخط
مغربی ایشیا اور قریبی ممالک میں امن و استحکام پر زور

نئی دہلی ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے آج ہندوستان کے حج کوٹہ میں تقریباً 25000 کا اضافہ کیا ہے۔ تین سال کے اندر یہ تیسرا اضافہ ہے۔ اب ہندوستان سے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے جانے والے ہندوستانی عازمین کی تعداد 2 لاکھ ہوجائے گی۔ وزیراعظم نریندر مودی اور سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان بات چیت کے بعد وزارت خارجہ نے حج کوٹہ میں اضافہ کا اعلان کیا جبکہ ٹی ایس تری مورتی سکریٹری معاشی تعلقات وزارت خارجی امور نے کہا کہ اضافہ شدہ کوٹہ پر عمل آوری کا انحصار موجودہ صورتحال کے متقاضی ہوگاتاہم وزیراقلیتی امور مختارعباس نقوی نے کہا کہ اس اضافہ کا اطلاق اسی سال سے ہوگا۔ وزیراعظم مودی اور محمد بن سلمان کی مذاکرات کے بعد تری مورتی نے بتایا کہ ہماری درخواست پر سعودی عرب نے ہندوستانی مسلمانوں کیلئے تحفہ دیتے ہوئے کوٹہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے جذبہ کی تہہ دل سے ستائش کی جاتی ہے۔ مختار عباس نقوی نے بھی فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولیعہد شہزادہ اور وزیرخارجہ سشماسوراج سے اظہارتشکر کیا۔ مسلسل تین سال میں یہ تیسری مرتبہ اضافہ ہے۔ 2014ء میں مودی حکومت کے اقتدار پر آئے وقت ہندوستان کا کوٹہ ایک لاکھ 36 ہزار تھا۔ اس میں اضافہ ہوکر اب 2 لاکھ ہوگیا ہے۔ آزادی کے بعد سے ہندوستان سے حج کیلئے جانے والے عازمین کی یہ سب سے بڑی تعداد ہوگی۔ سعودی عرب کے ساتھ وزیراعظم مودی کے دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کے باعث یہ اضافہ ممکن ہوا ہے۔ سعودی عرب نے ہندوستان میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ دو سال کے دوران ہندوستان میں سرمایہ کاری کا حجم 100 بلین ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات ہزاروں سال پرانے ہیں۔ ان تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ گذشتہ 50 سال کے دوران ہندوستانی ہنرمندوں نے سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی مشترکہ مفادات اور اقدار ہیں۔ جن کی بنیاد پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ولیعہد کا یہ دورہ ہند ہمارے لئے باعث افتخار و مسرت ہے۔ اس دورہ نے تیز رفتار ترقی کا نیا باب کھول دیا ہے۔ میں ایک بار پھر اپنے عزیز و محترم ولیعہد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہماری دعوت کو قبول کیا۔ ولیعہد شہزادہ کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ سعودی عرب نے اقتصادی ترقی کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس دورہ کے اختتام پر دونوں ملکوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ ہندوستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کو آئندہ نسل کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے آج اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ انسانیت کے خلاف اس خطرے کو بڑھاوا دینے والے ممالک پر دباؤ بنانے ، دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو کیفر کردار تک لانا بہت ضروری ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی اور سعودی اور سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان بن عبدالعزیز ال سعود کے مابین یہاں حیدرآباد ہاؤس میں ہوئی وفود سطح کی میٹنگ میں مذکورہ اتفاق رائے ظاہر کیا گیا۔ دونوں ممالک نے سرمایہ کاری، سیاحت، رہائش اور ثقافت نیز میڈیا سے متعلق تعاون کے پانچ معاہدوں پر دستخط کئے۔ ملاقات کے بعد مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ اپنے دفاعی ماحول کے تناظر میں، ہم نے باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے اور اس میں توسیع کرنے پر بھی کامیاب گفت و شنید کی اور کہا کہ گزشتہ ہفتے پلوامہ میں وحشیانہ دہشت گردانہ حملہ، انسانیت مخالف خطرے سے دوچار دنیا کو نجات دلانا ہے ۔ اس سے پلوامہ حملے کے بعد جیش محمد پر کارروائی کیے جانے کے سلسلے میں پاکستان پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے ۔مودی نے مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں ہندوستان کے 27 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ اس لئے یہاں امن و خوشحالی دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے ۔ ہندوستان اور سعودی عرب نے اس علاقے میں ہمارے کاموں میں تال میل قائم کرنے اور ہماری شراکت داری کو تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

TOPPOPULARRECENT