اپنی نسلوں کے دین و ایمان کی فکر کرنا انبیاء کی سنت ، نارائن پیٹ میں کتاب کی رسم اجرائی تقریب ،مفتی سید آصف الدین ندوی کا خطاب
نارائن پیٹ۔ یکم مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اپنی نسلوں کے دین وایمان کی فکر کرنا انبیا ء کرام کی سنت ہے، قرآن پاک میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کا اولاد کی تربیت وتعلیم کا تذکرہ موجو دہے،اپنے بچوں بچیوں کے دین و ایمان ، عقیدہ واعمال کی فکرمندی اور عملی کوشش اللہ کے رسولوں کے ذریعہ امت مسلمہ کو نسل درنسل ملی ہے، حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا واقعہ، حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت ،حضرت یعقوب علیہ السلام کااپنے بیٹوں کو تلقین اور حضرت یوسف کی تربیت ، حضرت آدم علیہ السلام کی شفقت ونصیحت کی وہ شاہ کار مثالیں ہیں جو قیامت تک کیلئے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ، سردار انبیاء، رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ تمام پہلوئوں سے مرصع ایک خوبصورت ودل آویز اور یادگار وحسین مجموعہ ہے، اسی لئے اللہ نے آپ کی سیرت طیبہ کو اسوہ حسنہ قراردیاہے۔جس میں جمال یوسف ؑ ،عزیمت نوحؑ، صبر ایوبؑ، ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ،آدم علیہ السلام کی شفقت، موسیٰ علیہ السلام کا عزم وحلم ، عیسٰی السلام کی پاک دامنی بلکہ آپ علیہ السلام تمام انبیا کرام کی خوبیوں اورکمالات کا مجموعہ ہیں۔اس ستودہ صفات وجامع کمالات ہستی کو اللہ نے ہماری سیرت سازی کا معیار بنایا ہے۔ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی ایم اے بانی انسٹیٹیوٹ آف عربک حیدرآباد نے کتاب ’’محمد مصطفی ﷺ ،ہمارے حبیب‘‘ کے رسم اجرا ء کے جلسہ میں جو ماڈرن ہائی اسکول ، نارائن پیٹ میں منعقد ہوا، کیا او راپنے سلسلہ خطاب میں کہا کہ یہ کتاب ایک مشن اور ایک تحریک ہے، ایک انقلاب کا عنوان ہے۔ قبل ازیں جناب عثمان عبید اللہ مجاہد صدیقی ناظم جماعت اسلامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کتاب کے دونوں مصنفین کاتعلق نارائن پیٹ سے ہے، ماہر نفسیات ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع امریکہ و مفتی سید آصف الدین ندوی نے اس بہترین کتاب کو سیرت کے عظیم لائبریری سے جمع کیا ہے،اس میں قلب ونظر کا سامان ہے، فکر وعمل کیلئے دعوت ہے۔ قارئین کرام کی سہولت کے لئے پاکٹ سائز میں آرٹ پیپر پر دیدہ زیب وجاذب نظر صورت میں طبع کرایاگیا ہے اور اہلیان نارائن پیٹ کیلئے مصنفین کی طرف سے تحفہ پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیرت طیبہ سے ہماری زندگی دنیا میں بھی روشن ہوگی اور آخرت کے اندھیروں شمع محمدی ہی سے سہارا ہے، اسی لئے ضروری ہے کہ اُمت مسلمہ سیرت طیبہ سے جڑے،رسول اللہ کی حیات طیبہ سے انسانیت کو جوڑے،آپ کے پیام رحمت اوردعوت انسانیت کو ساری دنیا تک پہنچائے، خاص طورپر بچپن سے مسلمانوں میں سیرت کی تعلیم ہونی چاہیے ۔قبل ازیں مہمان خصوصی جناب محمد اخلاق الرحمن سنڈکے حیدرآباد نے ماڈرن ہائی اسکول کے حوالے سے کہا کہ یہ تعلیم کی شمع ہے اسے روشن رکھنا ہمارا فریضہ ہے، ہمیں ملت کی تعلیم کیلئے آپسی اختلافات کو فراموش کر کے متحد کوشش کرنے کی ضرورت ہے، جناب محمد عبد القدیر سنڈکے کرسپانڈنٹ ماڈرن ہائی اسکول نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور اپنے خیر مقدمی کلمات میں کہاکہ کتاب ’’محمد مصطفی ﷺ، ہمارے حبیب‘‘ کے رسم اجرا کے موقعہ پر حاضری اور پیام سیرت کی تحریک میں موجودگی سعادت ہے۔ مفتی سیدآصف الدین ندوی کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔