بی جے پی امیدوارہ کی کوئی سیاسی شناخت نہیں ، عوامی تائید سے محروم ، مجلس امیدوار عوام کے درمیان
حیدرآباد۔6۔مارچ۔(سیاست نیوز ) حیدرآباد حلقہ لوک سبھا سے مجلس اتحاد المسلمین اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے لئے دلچسپ ہونے لگا ہے جبکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بی جے پی کے امیدوارہ بیرسٹر اسد الدین اویسی سے مقابلہ کے لئے اپنی کوئی سیاسی شناخت کی حامل طاقتور امیدوارہ نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر جہاں بیرسٹر اسدالدین اویسی کے خلاف بی جے پی کی جانب سے پہلی مرتبہ خاتون امیدوار کو میدان میں اتارنے کا اعلان کیاگیا ہے اس کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے ایسا باور کروایا جانے لگا ہے اور مختلف پلیٹ فارمس پرہاش ٹیاگ چلاتے ہوئے OwaisiVSvirinchi کو وائرل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی امیدوارہ ڈاکٹر مادھوی لتا ورنچی ہاسپٹل کی صدرنشین ہیں جبکہ بیرسٹر اسد الدین اویسی دکن کالج آف میڈیکل سائنس کے تحت چلائے جانے والے اویسی ہاسپٹل کے صدرنشین ہیں۔ مادھوی لتا جو کہ گذشتہ ایک برس سے پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں عوام کے درمیان پہنچ کر سماجی خدمات کے نام پر سیاسی کوششیں کررہی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کو کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جبکہ حلقہ لوک سبھا حیدرآباد سے بیرسٹر اسدالدین اویسی عوام کے درمیان سرگرم سیاست میں رہنے والے سیاستداں کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ورنچی ہاسپٹل کی صدرنشین مادھوی لتا کو بی جے پی کی جانب سے لوک سبھا حیدرآباد کا امیدوار بنائے جانے کے بعد ان کے دواخانہ ورنچی ہاسپٹل کو نشانہ بناتے ہوئے ’’کورونا وائرس‘‘ کے دوران بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں حکومت کی جانب سے دواخانہ کے لائسنس کی تنسیخ اور دواخانہ پر عائد کئے گئے جرمانہ کی تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں اور مادھوی لتا کو امیدوار بنائے جانے سے قبل سے ہی وہ ہندو دھرم کی مقرر کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانے کی کوشش کرتی رہی ہیں اور اب وہ سڑکوں پر اتر تے ہوئے اپنی سیاسی شخصیت کو منوانے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں عوامی تائید حاصل نہیں ہوپارہی ہے ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی جو 2004 سے مسلسل لوک سبھا حیدرآباد سے منتخب ہورہے ہیں اب بھی اپنے حلقہ پارلیمان کے عوام کے درمیان ہیں ۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے ہیاش ٹیاگ سے سیاسی میدان میں امیدواروں کی قسمت تبدیل نہیں ہوتی بلکہ عوام کے درمیان شناخت رکھنے والے امیدوار ہی انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ورنچی بمقابلہ اویسی کے متعلق جو بات کر رہے ہیں وہ دراصل حلقہ لوک سبھا حیدرآباد میں مجلس بمقابلہ بی جے پی ماحول کی تیاری کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بی جے پی نے غیر معروف خاتون امیدوارہ کو دولت کی بنیاد پر میدان میں اتارتے ہوئے حلقہ لوک سبھا حیدرآباد سے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ بی جے پی امیدوارہ مادھوی لتاپر کی جانے والی تنقیدوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہاہے کہ وہ ایک کارپوریٹ دواخانہ کی صدرنشین ہیں جبکہ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی حمایت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ وہ سماجی بھلائی کے لئے دواخانے چلاتے ہیں۔ حلقہ لوک سبھا حیدرآبادمیں مادھوی لتا کس حد تک اثر انداز ہو پائیں گی اس سلسلہ میں سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ فی الحال ان کا حیدرآباد پارلیمانی حلقہ کے دائرہ کار میں آنے والے حلقہ جات اسمبلی چارمینار‘ چندرائن گٹہ ‘ یاقوت پورہ‘ کاروان‘ ملک پیٹ‘ گوشہ محل اور بہادر پورہ میں کوئی اثر دیکھا نہیں جا رہا ہے اور نہ ہی آئندہ دو ماہ کے دوران وہ رائے دہندوں پر اثر انداز ہوپائیں گی۔3