حیدرآباد میں نئی تعمیراتی پالیسی : اہم نکات

   

حیدرآباد ۔ یکم ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں نئی تعمیراتی پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا جس کی اہم خصوصیات میں ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے عمل درآمد کی جانے والی اس نئی کنسٹرکشن پالیسی کے تحت حکومت نے L1 کلیرینس کے طریقہ کار میں بعض تبدیلیاں کی ہیں ۔ چنانچہ اب مستقبل کی پیچیدگیوں اور مسائل کے تدارک کے لیے درخواست پر کارروائی کے عمل میں ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے محکمہ مال اور واٹر ریسورسیس ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کو شامل کیا جائے گا ۔ L1 کی منظوری کے لیے درخواست محکمہ مال اور واٹر ریسورسیس ڈپارٹمنٹ کے دستاویزات کے ساتھ ایچ ایم ڈی اے میں داخل کرنا ہوگا ۔ اس کے بعد ایچ ایم ڈی اے کے ڈائرکٹر اور پلاننگ آفیسر کوئی فیصلہ کریں گے ۔ تمام تین محکمہ جات سے منظوری کے بعد فائل پلاننگ آفیسر کے پاس روانہ کی جائے گی ۔ اس کے لیے چھ اہم نکات حسب ذیل ہیں : ( 1 ) ایچ ایم ڈی اے کے دائرہ کار میں پانچ یا زائد فلورس کی بلڈنگس اور لے آوٹس کے لیے اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست داخل کرنا لازمی ہے ۔ ( 2 ) درخواست فائل کو تمام تین محکمہ جات کے اطمینان پر ہی آگے بڑھایا جائے گا ۔ ( 3 ) محکمہ مال کی جانب سے زمین کی ملکیت کی تصدیق کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس میں سرکاری اراضی ، ممنوعہ فہرست اور قانونی تنازعات کے مسائل نہ ہوں ۔ اس انفارمیشن کو ایچ ایم ڈی اے کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا ۔ ( 4 ) اس کے بعد درخواست کی جانچ واٹر ریورسیس محکمہ کی جانب سے کرتے ہوئے یہ دیکھا جائے گا کہ آیا اس میں جھیل ، نالے یا دیگر ذخائر آب موجود تو نہیں ہیں ۔ ( 5 ) واٹر ریسورسیس کے عہدیدار ماسٹر پلان کے مقابل درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے لے آوٹ کے زوننگ کا تعین کریں گے اور دیکھیں گے کہ اس زمین سے کوئی سڑک تو نہیں گذر رہی ہے ۔ ( 6 ) L1 ایوالویشن کے بعد پلاننگ آفیسر مقامی معائنہ کرتے ہوئے درخواست کا مکرر جائزہ لیں گے ۔ محکمہ مال ، واٹر ریورسیس اور ایچ ایم ڈی کی موافق رپورٹس کے بعد ہی منظوری دی جائے گی ۔ تاہم رئیل اسٹیٹ پروفیشنلس اور بلڈرس نے اس نئی پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس میں کئی محکمہ جات کو شامل کرنے سے درخواستوں پر کارروائی میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے ۔۔