Saturday , December 7 2019

خود کو ’ واستو ‘ کے سپرد کردیا ہے !

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
تلنگانہ ریاست ’ واستو ‘ کی لپیٹ میں ہے ۔ اس واستو کے باعث چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی پہلی پانچ سالہ حکمرانی کے دوران سکریٹریٹ کا بمشکل ایک یا دو مرتبہ دورہ کیا تھا اب وہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں نئی عمارت بنا رہے ہیں اور ارم منزل کو تباہ کر کے نئی اسمبلی عمارت کھڑی کریں گے ۔ بے شک جب حالات قابو سے باہر ہوجائیں حکمرانی کے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوجائیں تو بڑے سے بڑے لیڈر بھی واستو کی چکر میں پھنس کر خود کو اس کے سپرد کرتے ہیں ۔ انہیں اچھی خاصی تاریخی عمارتیں بھی بھوت بنگلہ نظر آنے لگی ہیں ۔ حکومت کے پاس کسی نئی یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے ۔ مگر سکریٹریٹ کی موجودہ عمارت اور اسمبلی ہونے کے باوجود عالیشان عمارتیں بنائی جارہی ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 400 کروڑ روپئے کی لاگت سے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا ۔ سکریٹریٹ کے شمال مشرقی حصہ کو واستو کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے نئے تعمیراتی منصوبوں کی مخالفت بھی ہورہی ہے ۔ ہائی کورٹ میں عرضیاں بھی داخل کی گئی ہیں ۔ سکریٹریٹ کی موجودہ عمارت 25 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اس کے تمام 10 بلاکس کو منہدم کر کے یہاں نئی عمارت تعمیر کی جائے گی ۔ حیدرآباد کی تاریخی عمارت ارم منزل کی جگہ نئی اسمبلی عمارت بنائی جائے گی ۔ اس نئی اسمبلی عمارت کو پارلیمنٹ ہاوز کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے واستو پر عمل کرنے اور نئی عمارتوں کی تعمیر کے منصوبوں کی مخالفت کرنے والوں کا احساس ہے کہ جب یہ عمارتیں مزید 50 سال تک باقی رہ سکتی ہیں تو پھر انہیں مسمار کر کے کروڑہا روپئے خرچ کرنا کہاں کی عقل مندی ہے ۔ اگر نئی عمارتیں بنانا ہی ہے تو شہر کے اطراف و اکناف کھلی اراضیات پائی جاتی ہیں جہاں نئی بلند عمارتوں کو وجود میں لا کر ریاست کی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ شہر کے اندر پہلے ہی سے ٹریفک کا اژدھام پایا جاتا ہے ۔ نئی عمارتیں تعمیر کرنے کا منصوبہ مستقبل کی پریشانیوں پر غور کیے بغیر ہی تیار کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے ہر فیصلہ اور اقدام کو درست قرار دینے والے ان کے حامیوں نے انہیں تلنگانہ کے مفادات کا ناقابل تسخیر نگہبان قرار دیا ہے ۔ وہ ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے مرکز سے لڑنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ ٹی آر ایس کو ریاست تلنگانہ کی حفاظت کرنے والی ایک دیومالائی طاقت قرار دینے والے کے ٹی راما راؤ نے بھی واستو کو اہمیت دی ہے ۔

شہر حیدرآباد تلنگانہ کا دارالحکومت ہے اور پڑوسی تلگو ریاست آندھرا پردیش کا بھی مشترکہ دارالحکومت ہے لیکن اس کو ترقی دینے کے وعدے صرف کاغذ کی حد تک بند ہیں ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران حیدرآباد کو جو نقصان پہونچایا گیا تھا اس شہر کی تعمیر نو کے لیے برسوں درکار ہوں گے ۔ تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ بنانے کا دعویٰ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت نے پانچ سال کے دوران ریاست کو ایک لاکھ 80 ہزار 239 کروڑ کی مقروض بنادی ہے جب کہ چیف منسٹر کے سی آر یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ان کی حکومت میں تلنگانہ نے ملک کی دولت مند ریاست کا درجہ حاصل کرلیا ہے ۔ قرض چھوڑ کر حکومت سود کی رقم ادا کرتے کرتے ریاست کی معاشی دیوالیہ نکال دے گی ۔ ریاستی عوام نے اس حکومت سے بے شمار توقعات وابستہ کرلی تھیں ان کی توقعات پورے نہیں ہورہے ہیں ۔ اس کے باوجود عوام کو اب بھی ٹی آر ایس پر کامل بھروسہ ہے کہ وہ آگے کچھ نہ کچھ دکھائی دینے والے کام کرے گی ۔ ٹی آر ایس کو بھی عوام کے ایقان اور اعتماد کا اس قدر یقین ہے کہ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آئندہ 25 سال تک حکومت کرے گی ۔ ٹی آر ایس پارٹی کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا جارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ریاست گیر سطح پر رکنیت سازی مہم شروع کی گئی ہے ۔ 20 جولائی تک ایک کروڑ تک رکنیت سازی کرنے کا نشانہ بنایا گیا ۔ گذشتہ دو سال کے دوران پارٹی نے تقریبا 60 لاکھ افراد کو پارٹی کی رکنیت دی تھی ۔ اب اسمبلی اور مقامی بلدیات کے انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد ٹی آر ایس نے ایک کروڑ افراد کو رکن بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ کے ہر ضلع میں پارٹی ہیڈکوارٹرس تعمیر کرنے کا مقصد پارٹی کے ہر کارکن کو پہلے سے زیادہ سرگرم رکھنا ہے تاکہ وہ پارٹی کے رائے دہندوں سے ربط میں رہیں ۔ ٹی آر ایس کو تلنگانہ پر مزید 25 سال تک حکومت کرنے کی خوش فہمی ہوگئی ہے ۔ حالیہ انتخابی کامیابی نے حکمران پارٹی کے ارکان کو بے قابو کردیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر رکھنے والی حکومت کو ریاستی معیشت کو دھکہ پہونچنے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کو اچھی طرح علم ہونا چاہئے کہ ریاست میں معاشی بحالی اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے فوری مالیاتی اقدام کریں ۔ کسی بھی معاشرے کی اقتصادیات ہی اس کی سماجیات کے معیار کو متعین کرتی ہیں ۔ واستو پر چلنے والی حکومت کا مستقبل بھی غیر یقینی رہتا ہے ۔ جب حکومت کی سطح پر عام آدمی تو کھانے پینے کی اشیاء سستے داموں میں حاصل کرلیتے ہیں حکومت اگر عام آدمی کی قوت خرید کو بڑھائے بغیر مہنگائی میں اضافہ کرتے جائے تو عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کے بجائے مالداروں کی جیب بھرنے کا کام کرتی ہے ۔ بدقسمتی ہے کہ آج بھی وہی سلسلہ جاری ہے ۔ اصل مسائل کی طرف توجہ دینے کے بجائے پانی میں تیراکی کے لیے کسے اترنا چاہئے اور کسے نہیں ، اس کا فیصلہ بھی مرکزی حکومت کرے گی تو پھر ریاست کا سارا زور مرکز پر جاکر ٹوٹ جائے گا ۔ کون جانتا ہے کہ عوام کی یہ تکالیف کب ختم ہوں گی ۔ دکھوں کا مداوا کب ہوگا ۔ کون جانتا ہے کہ کب سکون میسر آئے گا ۔ کون جانتا ہے کہ کب عوام کے حقیقی نمائندے اور درد محسوس کرنے والے آئیں گے اور معیشت کے ساتھ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائیں گے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے واستو کے نام پر 400 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ بناکر شاہ خرچی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ حیدرآباد میں نئے سکریٹریٹ اور نئی اسمبلی عمارت کی تعمیر کے لیے ایک شاندار سنگ بنیاد تقریب منعقد کرنے کے خلاف بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ اور دیگر کئی پارٹی قائدین نے احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ کے سی آر غیر ضروری عوامی رقومات کو لٹا رہے ہیں ۔ موجودہ سکریٹریٹ کی عمارت واستو کے مغائر قرار دے کر نیا سکریٹریٹ بنانا اور قدیم تاریخی عمارت ارم منزل کو مسمار کر کے اسمبلی کے لیے عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ کی عوامی سطح پر مخالفت کی جارہی ہے ۔ مگر کے سی آر نے اس مخالفت کو نظر انداز کردیا ۔ آئندہ چند ماہ کے اندر سکریٹریٹ کی نئی عمارت کھڑی کردی جائے گی اور اس عمارت کو لینڈ مارکس بنانے کا عزم ہے ۔ مقبول عام تاریخی عمارت چارمینار کی طرح ساری دنیا میں تلنگانہ کے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کی بھی ستائش کی جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ 10 ماہ کی قلیل مدت میں تاریخی عمارت بنانے کے سی آر کا عزم و حوصلہ قابل ستائش ہے ۔ مگر انہوں نے اب تک کسی بھی کنٹراکٹ ایجنسی سے معاہدہ نہیں کیا صرف عالمی ٹنڈرس کی طلبی ہورہی ہے تو 10 ماہ میں عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ آر اینڈ بی ڈپارٹمنٹ کے لیے یہ ذمہ داری ایک مشکل اور آزمائشی مرحلہ ہوگی ۔۔
kbaig92@gmail.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT