دستور ہند کی شق 29 کے تحت زبان ، رسم الخط اور تہذیب و تمدن کا تحفظ

   

ملک کے دستور سے ہر ایک کو واقف ہونا ضروری ، معروف قانون داں اور وائس چانسلر لائیو یونیورسٹی پروفیسر فیضان مصطفیٰ کا خطاب

نئی دہلی : دستور ہند میں آرٹیکل 29کہتا ہے کہ آپ کو اپنی زبان، اس کا رسم الخط اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کی آزادی ہے ، نیز لسانی اقلیتوں اور مذہبی اقلیتوں کے اداروں میں اس کے ریزرویشن کے امکانات باقی رہتے ہیں۔وقت کاتقاضا ہے کہ آپ کو اپنے موضوع پر مہارت حاصل ہو یا نہ ہو آپ کے لیے دستور کا علم ناگزیر ہے ۔ قانون سے واقفیت کا حصول ہم سب کے لیے ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف قانون داں اور نیشنل لائیونیورسٹی، پٹنہ کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفی نے شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کے زیر اہتمام اور اردو اکادمی، دہلی کے جزوی مالی تعاون سے سالانہ نظام خطبہ بعنوان ‘آئینی وژن’ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آئینی ویژن کیا ہے اس پر بات ہونی چاہیے ، حکومت ہند کی پالیسی ہے کہ دستور ہند کو عوام تک پہنچایا جائے ، دستور کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ، دستور سازی اوردستور کو اپنی زندگیوں میں ڈھالنے کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہوتی ہے ، اس پرپہلے محنت نہیں کی گئی، جمہوریت صرف یہ نہیں کہ ہم جاکر اپنا ووٹ ڈال دیں، ہماری زندگیوں اور گھروں میں عمومی طور پر جمہوریت نہیں ہے ،ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں اورگھروں میں بھی جمہوری اقدارکواپنائیں۔ دستوری قدروں کے نفاذکے لیے اٹھایاجانے والاکوئی بھی قدم سراہے جانے کے لائق ہے ، ہمارے تمام مذاہب انسانوں کو حدودمیں رہناسکھاتے ہیں، دستور بنیادی طور پر کنٹرول ہے ، جس کے پاس زیادہ طاقت ہو،اسے کنٹرول کرنا، حکومت کے پاس سب سے زیادہ طاقت ہوتی ہے ، اس لیے اسے کنٹرول کرنے کے لیے بھی دستور ناگزیر ہے ۔انھوں نے مزیدکہاکہ ہمارے آئین نے طے کیا ہے کہ عوام کا مذہب ہوگا، لیکن ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، آزادی کے وقت یہ فیصلہ لینا کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھیں گے ، یہ بڑا فیصلہ تھا، آئین سازاسمبلی نے عظیم فیصلہ کیا۔ مذہب کو حکومت پر اور حکومت کو مذہب پر غالب نہیں ہونا چاہیے ، اس زمانے میں یہ بتانا مشکل ہے کہ انصاف ہے کیا، اس لیے ضروری ہے کہ ان مقامات پر نظر رکھی جائے ، جہاں ناانصافی ہورہی ہے ، نا انصافی کے خاتمے کے ساتھ انصاف کی بحالی یقینی ہوجاتی ہے ۔ یہ سقراط کا فلسفہ ہے کہ ہم قانون ماننے پر مجبور ہیں، لیکن بابائے قوم مہاتما گاندھی کا فلسفہ یہ ہے کہ قانون اگر انصاف پر مبنی ہوتو عوام قانون کو مانیں گے ، ہمارے سماج میں اگر ایک فیصد لوگوں کے پاس 67فیصد دولت ہے تو اس کا مطلب نا انصافی ہورہی ہے ، غربت اگر ہمارے سماج میں بڑھ رہی ہے تو اس کا مطلب کہ انصاف نہیں ہورہاہے ، دستور کا وژن ہے بھائی چارہ، اگر مساوات اور انصاف ہوگا اور آزادی حاصل ہوگی تو آپسی بھائی چارہ باقی رہے گا۔