ذکر میلاد مصطفی سے ذہنی و دلی سکون : ہنس راج ہنس

   


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت ، بی جے پی ایم پی کی مولانا پیر شبیر نقشبندی سے بات چیت

حیدرآباد: سرکار دو عالم محسن انسانیت حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت اور عشق نبوی ؐ سے سر شار ہندوستان پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے قد آور رہنماء اور حلقہ لوک سبھا نارتھ ویسٹ نئی دہلی سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو نے والے رکن پارلیمنٹ عالمی شہرت یافتہ پنجابی صوفی گلوکار جناب ہنس راج ہنس نے مولانا پیر سید شبیر نقشبندی افتخاری چیرمین ایکتا بھون عقب دفتر وزیر اعظم ساوتھ بلاک نئی دہلی سے حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کے حوالے سے چلائی جانے والی ’’میلاد تحریک‘‘ کے پس منظرمیں فون پر بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ انہیں ذکر میلاد مصطفی سے ذہنی و دلی سکون حاصل ہو تا ہے۔جناب ہنس راج نے کہا کہ حضور محمدؐ کی ذات اقدس کسی خاص مذہب یا علاقے کے حدود کی پابند نہیں ہے بلکہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے پیام محبت سے جن و بشر فیضان پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو اپنے اپنے نصیب اور مقدر کی بات ہے جو جس قدر من کی لگن سے اللہ کے محبوب ؐ کو یا رسول اللہ کی تڑپتی آواز میں جب پکارتا ہے تو وہ رحمت للعالمین ؐ جو نہ کسی ہندو کے ہیں نہ مسلمان کے اورنہ سکھ ‘ عیسائی ‘ یہودی کے ہیں بلکہ وہ میرے پیارے نبیؐ اللہ کی رحمت ساری انسانیت پر سایہ فگن ہیں۔ جناب ہنس راج نے کہا کہ جب بھی وہ حالات زمانہ سے فطرت انسانی کے تقاضوں کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں یا بے چینی وہ بے قراری محسوس کر تے ہیں تو جب نعت رسول پاک ؐ کو تڑپ کر دل کی گہرائیوں سے پڑھتے ہیں تو اس نام محمدؐ کی برکتوں سے بے چین دل کو قرار آجاتا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جناب ہنس راج ہنس جن سے وارث سرکار وطن چشتی چمن مولانا پیر شبیر نقشبندی سے گہرا روحانی تعلق ہے چنانچہ مشہور گلوکار ہنس راج جی سے بات چیت کے دوران مولانا پیر نقشبندی سے اپنے دلی جذبات کااظہارکررہے تھے۔ ہنس راج نے شہر حیدرآبادکو عاشقان رسول اللہؐ کا گہوارہ قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ کورونا وائرس کے مکمل خاتمے کے بعد اس محبت کے شہرمیں شب نعت رسول پاکؐ کے انعقادپرمیں بصدعقیدت واحترام سرکے بل حاضرہونا اپنے لئے سعادت مندی سمجھتے ہیں۔ بی جے پی ایم پی جو عشق رسول سے سرشرار رہتے ہیں اس بات کا انکشاف کیا کہ ان کی یہ عین آرزوتھی کہ حدودسرزمین مدینہ منورہ کے ان حدود تک پہنچے جہاں پرحکومت سعودی عرب کی جانب سے غیرمسلمین کو جانے کی اجازت ہے۔اللہ کے محبوب سرکارمدینہ نے اس غلام کی تمناکوشرف قبولیت بخشااورمیں جب مسقط میں اپنے موسیقی کے پروگرام پیش کرنے کے بعداپنے عرب میزبان سے جب یہ خواہش کااظہارکیا کہ مجھے شہرمدینہ منورہ کے قریب پہنچادوچنانچہ نعت شریف پڑھتے ہوئے ہماری کاروں کاقافلہ سوئے مدینہ روانہ ہوا اور20کیلومیٹرہم رک گئے اوروہاں پر میں کھڑے ہوکربارگاہ رسالت مآب ؐ پرصلوۃ وسلام جب پیش کررہا تھا تومدینہ کی وادی سے ٹھنڈی ہوائیں محسوس کررہا تھا اورسارا ماحول عشق نبویؐ میں جھوم رہا تھا اورایسی روحانی کیفیت طاری تھی کہ میں نے محسوس کیا کہ رحمتہ للعالمینؐ کی جانب سے رحمت کی بارش چاروں طرف سے ہورہی ہے۔ میں اپنے اشک بار آنکھوں کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوا۔ مولانا پیرنقشبندی جوعالمی قرآنی وروحانی مہم کے بانی ومحرک بھی ہیںہنس راج جی کودعا دی کہ اللہ انہیں توحید پرست بنادے اور وہ پھرمدینہ پاک میں روضہ اطہر پربہ نفس نفیس حاضری دیں۔اس دعاپرہنس راج جی نے آمین کہا۔