روہنگیاؤ ں کی کشتی ڈوب گئی ، متعدد ہلاکتو ں کا خدشہ

   

جکارتہ : دنیا کی مظلوم ترین اقلیت روہنگیا جنہیں خشکی پر کہیں پناہ حاصل نہیں ۔ سارا سال کشتیوں میں پناہ کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ اکثر کھلے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں ۔ تھوڑے بہت انڈونیشیا یا کسی دوسرے ملک کے ساحل پر پہنچ کر پناہ مانگتے ہیں ۔ میانمار سے جان بچاکرروہنگیا مسلمانوں کی ایک کشتی 57 افراد کو لیکر انڈونیشیا کے ساحل پر پہنچنے میں کامیا ب ہوگئی جبکہ دوسری کشتی ڈوب گئی ۔ انڈونیشیاء میں 174 روہنگیا افراد کو لے جانے والی ایک کشتی ساحل پر پہنچی تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق پناہ گزینوں کے عالمی ادارے کا خدشہ تھا کہ وہ سمندر میں ڈوب چکے ہیں لیکن بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں کچھ روہنگیا پناہ گزینوں نے کشتی کے ذریعہ انڈونیشیاء پہنچنے والے کچھ مہاجرین سے بات کرنے کے بعد بتایا کہ ان 174 افراد جس کا تعلق ان 180 مہاجرین سے نہیں ہے اور وہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک لاپتہ ہیں اور اب یہ سمندری حادثہ کا شکار ہونے کے بعد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ کشتی اس لائق نہیں تھی کہ اس پر سفر کیا جائے اور ڈسمبر کے اوائل میں ہی اس میں خرابی پیدا ہونے کی اطلاعات ملنے لگی تھیں بعد میں اس سے رابطہ بھی قطع ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ 2022 میں روہنگیا پناہ گزینوں میں ہلاکت کا یہ واقعہ حالیہ برسوں میں ان کے ساتھ پیش آنے والے بدترین واقعات میں سب سے بڑا ہے ۔