ریونت ریڈی اور کے ٹی آر کی پد یاترا کا مقصد عوامی مسائل سے توجہ ہٹانا

   

دونوں پارٹیوں میں خفیہ مفاہمت، وعدوں کی عدم تکمیل پر عوام سے معذرت خواہی کرنے بنڈی سنجے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔یکم۔نومبر (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار نے موسی ریور فرنٹ پراجکٹ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کی پد یاترا اور دوسری طرف کے ٹی آر کی جانب سے ریاست گیر سطح پر پد یاترا کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پد یاترا کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ ریونت ریڈی اور کے ٹی آر دونوں کو پد یاترا نہیں بلکہ عوام کے درمیان وعدوں کی عدم تکمیل پر ندامت کے ساتھ گھٹنوں کے بل چلنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی 6 ضمانتوں پر عمل آوری میں ناکام ہوچکے ہیں جبکہ بی آر ایس حکومت نے 10 برسوں میں عوامی مسائل کو نظر انداز کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کو عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہئے کہ وہ وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں۔ کانگریس اور بی آر ایس میں خفیہ معاہدہ کا الزام عائد کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے دونوں قائدین پد یاترا کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات تک وہ سیاسی گفتگو پر یقین رکھتے ہیں اور الیکشن کے بعد تمام طبقات کو ساتھ لے کر کریم نگر کی ترقی کے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی اور کے ٹی آر کی پد یاترا کے اعلان سے ثابت ہوچکا ہے کہ دونوں ایک ہیں۔ بی جے پی کے خلاف دونوں نے مہم چھیڑ رکھی ہے کیونکہ تلنگانہ میں بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ بی آر ایس دور حکومت میں جب میں نے پد یاترا کی تو بی آر ایس کے غنڈوں نے حملہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر عوامی مسائل کو بھلاکر فارم ہاؤز میں آرام کر رہے ہیں۔ بنڈی سنجے کمار نے کہا کہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے نام پر غریبوں کے مکانات کے انہدام کی بی جے پی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کیلئے بی جے پی جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانیوں میں ملوث کے سی آر خاندان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے کانگریس حکومت موسی ریور فرنٹ پراجکٹ میں مصروف ہے۔ دیڑھ لاکھ کروڑ کے پراجکٹ کے ذریعہ بڑے پیمانہ پر بے قاعدگیوں کی تیاری ہے۔ مرکزی وزیر نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں ہندوؤں پر حملوں کے واقعات پر بی آر ایس قیادت خاموش ہے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ اعلان کریں کہ انہیں ہندوؤں کے ووٹ نہیں چاہئے۔ 1