ریونت ریڈی کا موبائیل فون پر بات چیت سے گریز ، قائدین کو مشکلات

   

کانفرنس کالس اور ریکارڈنگ کے تلخ تجربات کے بعد کانگریس قائد الجھن میں
حیدرآباد۔10۔اپریل (سیاست نیوز) موبائیل فونس نے عام آدمی کی زندگی کو آسان بنادیا ہے اور گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی حصہ میں ربط قائم کیا جاسکتا ہے ۔ موبائیل کے استعمال کے جس قدر فوائد ہیں، اسی طرح بعض نقصانات بھی ہیں جس سے بچنا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ سیاسی قائدین عام طور پر موبائیل فون کے استعمال میں احتیاط برتتے ہیں تاکہ ان کی رازدارانہ گفتگو کا انکشاف نہ ہوجائے۔ سیاسی قائدین لاکھ احتیاط کے باوجود موبائیل پر بات کرنے کیلئے دستیاب رہتے ہیں لیکن صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے لئے موبائیل فون درد سر سے کم نہیں ۔ ریونت ریڈی شاذ و نادر ہی کسی سے فون پر بات کرتے ہیں ورنہ زیادہ تر کہہ دیا جاتا ہے کہ ٹیکسٹ مسیج روانہ کردیں۔ پارٹی کیڈر کے علاوہ سینئر قائدین کو بھی شکایت ہے کہ ریونت ریڈی فون پر دستیاب نہیں ہوتے۔ یہ مسئلہ آخرکار ہائی کمان تک بھی پہنچ گیا اور سینئر قائدین نے اے آئی سی سی انچارج مانک راؤ ٹھاکرے سے اس بات کی شکایت کی کہ ریونت ریڈی ٹیلیفون پر گفتگو نہیں کرتے۔ اس شکایت کے بعد ریونت ریڈی نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ کو تبدیل کردیا کیونکہ وہ سینئر قائدین کے فون کالس کو نظر انداز کر رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ موبائیل فون پر گفتگو ریونت ریڈی کو کئی مرتبہ بھاری پڑ گئی اور تلخ تجربات کے بعد انہوں نے فون پر گفتگو بند کردی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض قائدین نے ان کی مرضی کے بغیر ہی انہیں کانفرنس کال پر رکھتے ہوئے گفتگو کی جس کا ریونت ریڈی کو بعد میں علم ہوا۔ ریونت ریڈی کا کہنا ہے کہ اگر جس پر بھروسہ کیا جائے وہی اس طرح کی حرکت کرے تو پھر موبائیل پر گفتگو کرنا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ بعض مواقع پر ریونت ریڈی کے کال کو ریکارڈ کرلیا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ریونت ریڈی نے موبائیل فون پر بات چیت سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا اور قا ئدین سے کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیکسٹ مسیج کردیں۔ ریونت ریڈی اپنے بعض بااعتماد ساتھیوں کے فون سے سینئر قائدین سے گفتگو کرتے ہیں۔ ریونت ریڈی کے موبائیل فون پر عدم گفتگو سے سینئر قائدین اور کیڈر کو کافی مایوسی ہے۔ر