سرسلہ میں اغوا کا سنسنی خیز واقعہ، ایک ڈرامہ

   


میرا اغوا نہیں ہوا، میں نے عاشق سے شادی کرلی، لڑکی کا انکشاف

گمبھی راؤ پیٹ ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست تلنگانہ کے سرسلہ ضلع سے نوجوان لڑکی کے اغوا کے معاملہ کا نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ لڑکی نے خود اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا اغوا نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنے عاشق کے ساتھ شادی کرلی۔ اغوا کے کچھ گھنٹوں بعد لڑکی نے اپنے شوہرکے ساتھ ویڈیو سوشل میڈیا پرپوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ دراصل وہ اورجانی نامی نوجوان ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، اس کے گھروالے اس شادی کے خلاف تھے اوردوسری جگہ اس کیلئے رشتہ تلاش کررہے تھے۔ لڑکی کے مطابق اس کے کہنے پرجانی نے اس کا اغوا کیا اوراس کے بعد ہم دونوں نے مندرمیں شادی کرلی۔ واضح رہے کہ راجننہ سرسلہ ضلع میں صبح کی اولین ساعتوں میں اغوا کی سنسینی خیز واردات پیش آئی چار نوجوانو ں نے جو کار میں آئے باپ کے سامنے بیٹی کے اغوا کرکے لے گئے۔ یہ واقعہ راجننہ سرسلہ ضلع کے چندورتی منڈل کے موڈاپلی گاوں میں پیش آیا۔لڑکی کے اغوا سے ہلچل مچ گئی، واقعہ پر آج ویملواڈ کے دورے پرآے ریاستی وزیر بلدی نظم نسق نے بھی برہمی کا اظہار کیا اور ضلع ایس پی راہول ہیگڑے سے واقعہ پر تفصیلی بات چیت کرتے ہوے ہدایت دی کہ اس حرکت میں ملوث نوجوانوں کو فوری طور پر گرفتار کرے۔تفصیلات کے مطابق ماسک پہنے ہوئے چار نوجوان صبح سویرے ایک کار میں موڈا پلی گاؤں کے گولی شالینی کے گھر آئے۔ جب شالنی باہر آئی تو انہوں نے اس کا زبردستی اپنی کار میں بٹھا لیاشالنی کے والد چندر یا نے روکنے کی کوشش کی تو دھکا دے کر شالنی کو گاڑی میں لے گئے۔ شالنی جب گھر سے باہر آئی تو نوجوان جو گھر کے باہر ایک کار میں بیٹھے تھے جیسے ہی نوجوان لڑکی باہر آئی، انہوں نے اس کے والد کو مارا پیٹا اور زبردستی تالا لگا دیا۔ لڑکی کو زبردستی کار میں بیٹھانے کا منظر سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا۔ والد کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے لڑکی کی تلاش شروع کر دی تھی لیکن یہ اغوا ڈرامہ ثابت ہوا۔