سیکورٹی ہٹائے جانے کیخلاف ارجن سنگھ کلکتہ ہائیکورٹ سے رجوع۔مرکز سے رپورٹ طلب

   

کولکاتا : بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں واپس آنے والے ارجن سنگھ نے مرکزی حکومت کے ذریعہ زیڈ سیکورٹی ہٹائے جانے کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔تاہم عدالت نے اس عرضی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اگلے 10دنوں میں رپورٹ طلب کی ہے ۔جسٹس موسمی بھٹاچاریہ نے ریاستی حکومت کو ارجن سنگھ کی سیکورٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے ۔ارجن سنگھ نے کہا کہ بارکپو ر حساس علاقہ ہے اس کی وجہ سے ہی مرکزی حکومت نے مجھے سیکورٹی فراہم کی تھی۔مگر صرف پارٹی بدلنے کی وجہ سے میری سیکورٹی ہٹادی گئی ہے ۔ارجن سنگھ گزشتہ مہینے ترنمول کانگریس میں واپسی کی ہے ۔وہ 2019کے پارلیمانی انتخاب سے عین قبل ارجن سنگھ ترنمو ل کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے مگر تین سال کی مدت کے بعد انہوں نے ترنمول کانگریس میں واپسی کی ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کی جسٹس موسمی بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ نے جمعہ کو کہا کہ سیکورٹی کا مسئلہ اس بات پر منحصر ہیکہ کس کی جان کو کتنا خطرہ لاحق ہے ۔ یہ کسی سیاسی جماعت پر منحصر نہیں ہے ۔ کیس کی اگلی سماعت 20 جولائی کو ہوگی۔تاہم، ریاست کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل انیربن رائے نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے لوگوں کو مرکزی سیکورٹی اس لیے ملتی ہے کیونکہ وہ حکمراں جماعت کے رکن ہیں۔ تاہم مرکز کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل بلب دل بھٹاچاریہ نے کہا کہ جب ارجن سنگھ کو سیکورٹی دی گئی تھی تو ریاستی سیکورٹی ہٹا دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کا وقفہ وقفے سے جائزہ لیا جاتا ہے ۔اس کی بنیاد پر ہی سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے ۔