سی بی آئی اور ای ڈی کے بعد اب الیکشن کمیشن کے ذریعہ اقتدار کا تحفظ

   

ریونت ریڈی کا الزام ، مخالف بی جے پی ووٹ حذف کرنے کی سازش، 13 کروڑ نام ملک میں خارج ، دہلی میں چیف منسٹر کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد۔12 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ رائے دہی ہر ہندوستانی شہری کا دستوری حق ہے لیکن بی جے پی اور الیکشن کمشنر گیانیش کمار ملک میں SIR مہم کے ذریعہ رائے دہندوں کی تعداد کو کم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک کی آبادی 140 کروڑ ہوچکی ہے لیکن ایس آئی آر مہم کے ذریعہ رائے دہندوں کی تعداد میں گھٹانے کی سازش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں جب اضافہ ہورہا ہے تو رائے دہندوں کی تعداد بھی بڑھنی چاہئے ۔ سابق میں SIR مہم کے ذریعہ نئے ناموں کو فہرست میں شامل کیا گیا لیکن فی الوقت اس مہم کے ذریعہ کمزور طبقات اور اقلیتوں کے ناموں کو حذف کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسے اداروں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اقتدار کا تحفظ کیا لیکن تحقیقاتی ایجنسیوں کے بجائے الیکشن کمیشن کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار کا تحفظ کیا جارہا ہے۔ فہرست رائے دہندگان سے مخالف بی جے پی رائے دہندوں کے نام حذف کئے جارہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ مخالف بی جے پی ناموں کو فہرست سے ڈیلیٹ کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نوجوانوں ، بیروزگاروں ، غریبوں اور کمزور طبقات کو اس مہم کے ذریعہ نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنرس نے گیانیش کمار کی بے قاعدگیوں اور یکطرفہ فیصلوں کی مخالفت کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گیانیش کمار کی جانب سے یکطرفہ فیصلوں کے ثبوت برسر عام آچکے ہیں اور مرکزی حکومت ان کا تحفظ کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایسی ریاستیں جہاں ایس آئی آر نہیں کیا گیا وہاں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہار اور مغربی بنگال میں ووٹ چوری کے ذریعہ بی جے پی کو کامیابی ملی ہے۔ ریونت ریڈی نے نریندر مودی سے سوال کیا کہ آخر گیانیش کمار کا تحفظ کیوں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان گیانیش کمار کی برطرفی کے لئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور راہول گاندھی کی قیادت میں احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک چیف الیکشن کمشنر کو برطرف نہ کیا جائے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ووٹ چوری کے خلاف یہ تحریک دراصل آزادی کی دوسری جدوجہد کی طرح ہے۔ عوام کے دستوری حق کو بچانے کیلئے راہول گاندھی کی جدوجہد میں ہر کسی کو شامل ہونا چاہئے ۔ الیکشن کمشنر کے تقرر کے طریقہ کار میں تبدیلی پر تنقید کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کیلئے وزیراعظم ، لوک سبھا میں قائد اپوزیشن اور چیف جسٹس آف انڈیا پر مشتمل کمیٹی کی روایت تھی لیکن نریندر مودی حکومت نے چیف جسٹس کو علحدہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر کو شامل کرلیا تاکہ اکثریتی بنیاد پر فیصلہ کیا جاسکے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مودی حکومت اور گیانیش کمار کے خلاف ملک بھر میں نوجوان سڑکوں پر آچکے ہیں۔ 2014 میں ملک میں رائے دہندوں کی تعداد 81 کروڑ تھی جو 2019 میں بڑھ کر 91 کروڑ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں ملک کے جملہ رائے دہندے 97 کروڑ تھے۔ SIR مہم کے ذریعہ 13 کروڑ نام خارج کردیئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ لیکن رائے دہندوں کی تعداد میں کمی باعث حیرت ہے ۔ بی جے پی فہرست رائے دہندگان سے 20 کروڑ نام حذف کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ برطانوی سامراج میں مجاہدین آزادی نے سائمن گو بیاک کا نعرہ لگایا تھا اور آج عوام SIR گو بیاک کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک میں ووٹ چوری کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔1/k