Thursday , February 27 2020

شہریت قانون واپس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

Participants during a Massive public meeting against CAA-NRC & NPR at Crystal Garden in Hyderabad on Satuday.Pic:Style Photo service.

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پر موقف ظاہر کرنے دباؤ ، ’اب تو بولو ، منہ تو کھولو ‘کے نعرے ، تلنگانہ اسمبلی میں قرار داد منظور کرانے کا مطالبہ
کرسٹل گارڈن میں احتجاجی جلسہ عام،مشتاق ملک ، عامر علی خاں ، جسٹس چندرا کمار ، پروفیسر ویشویشور راؤ ، عزیز پاشاہ ، امجد اللہ خالد اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد میں بھی شاہین باغ طرز کا احتجاج شروع کرنے کا اعلان
آئندہ جمعہ کو ہم فارم نہیں بھریں گے نعرہ کے ساتھ یوم عہد
ملک کو آزاد کرانے مسلمانوں نے قربانی دی ، اب ملک بچانے بھی مسلمان آگے

حیدرآباد ۔ 18 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : شہریت ترمیمی قانون ، ( سی اے اے ) این آر سی اور این پی آر کے خلاف منعقدہ عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام میں متنازعہ قانون کو واپس لینے تک احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں شریک عوام نے ہم فارم نہیں بھریں گے کا نعرہ بلند کرتے ہوئے آئندہ جمعہ کو یوم عہد منانے کا فیصلہ لیا گیا اور 24 جنوری کے دن جمعہ کے موقعہ پر تمام مساجد میں ہم فارم نہیں بھریں گے عہد لیتے ہوئے یوم عہد منایا جائے گا ۔ ساتھ ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اندرون ہفتہ حیدرآباد میں شاہین باغ طرز کے خواتین کے احتجاج کے آغاز کا اعلان کیا اور اس متنازعہ قانون کے خلاف فلیش پروٹسٹس احتجاج کو جاری رکھنے کی بات کی ۔ احتجاجی جلسہ عام میں ریاستی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اپنا موقف ظاہر کرنے کا پر زور مطالبہ کیا گیا اور جلسہ میں شریک عوام نے ’کے سی آر اب تو بولو ، منہ تو کھولو ‘کے نعرہ بلند کیے ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جس کی صدارت جناب مشتاق ملک کررہے تھے ریاستی اسمبلی میں این آر سی ، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور کرنے کا مطالبہ کیا اور ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش کی حکومتوں سے اس سیاہ قانون سے ریاستوں کو پاک رکھنے کی اپیل کی گئی ۔ آج شام کرسٹل گارڈن مہدی پٹنم میں 40 مختلف ملی ، مذہبی ، سیاسی ، ادبی ، سماجی اور بائیں بازو ، انسانی حقوق کی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا گیا ۔ اس احتجاجی جلسہ عام کا آغاز قرات کلام پاک اور اختتام قومی ترانے پر ہوا ۔ ہزاروں کی تعداد میں شریک مرد و خواتین کی کثیر تعداد جلسہ گاہ کی تنگ دامنی کا شکوہ کررہی تھیں ۔ قومی پرچم اور پلے کارڈز ہاتھوں میں تھامے ہوئے احتجاجی مخالف قانون نعرہ بلند کررہے تھے اور دستور کے تحفظ کے عزم کا اظہار کررہے تھے ۔ اس موقعہ پر کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی جناب مشتاق ملک نے کہا کہ سیاہ قانون ملک کے دستور کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو باور کیا کہ وہ ہندوستانیوں سے چیالنج مت کریں ۔ انہوں نے بند کمروں اور اے سی اجلاسوں میں احتجاج کرنے والوں سے کہا کہ انقلاب اس وقت تک ممکن نہیں جب اپنی آواز اور طاقت کا مظاہرہ سڑکوں پر نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کو دبانے کے لیے اجازت نہ دے کر مقدمات درج کرتے ہوئے خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ لیکن اب احتجاج ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کی لڑائی نہیں بلکہ سارے ملک کی عوام کی لڑائی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ و آندھرا پردیش کے علاوہ کرناٹک کے اضلاع میں بھی یوم عہد منایا جائے گا اور عوام میں ’ ہم فارم نہیں بھریں گے ‘ کے متعلق شعور بیدار کیا جائے گا اور احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی ۔ انہوں نے مخالف دستور طاقتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی اہمیت مسلمان سے زیادہ وہ نہیں جانتے کل ملک کو خطرہ تھا مسلمان نے قربانی دی اور آج دستور کو خطرہ ہے تو مسلمان سب سے آگے ہیں ۔ اور ملک میں برہمن واد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل تنظیموں اور جماعتوں کے علاوہ احتجاج میں شامل تمام شہریوں سے کہا کہ اس احتجاج اور تحریک کی اصل جان امن ہے اور امن کو برقرار رکھنے کی سخت ضرورت ہے ۔ انہوں نے عوام سے درخواست کہ وہ بے خوف ہو کر احتجاج میں شریک ہوں ۔ احتجاجی جلسہ عام کو مخاطب کرتے ہوئے نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے کہا کہ متنازعہ قانون صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے دوسرے عوام دلت ، ادیواسی اور پچھڑے ہوئے طبقات سب ایک کے بعد دیگر اس کی زد میں آئیں گے ۔ انہوں نے حوصلہ افزا شعر سے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور مختصر خطاب میں کہا کہ ملک کی آبادی کے 30 فیصد ووٹ کو ایک جٹ کرنے کی یہ سازش ہے ۔ انہوں نے ملک کی حالات کا ذمہ دار دو گجراتیوں کو قرار دیا اور کہا کہ 20 کروڑ عوام کو ڈیٹنشن سنٹر میں رکھنا ناممکن ہے چونکہ مسلمانوں کے علاوہ ملک کی آبادی میں 40 کروڑ عوام کے یہاں دستاویزی ثبوت نہیں پائے جاتے اور ایک سازش کے تحت 30 فیصد کو متحد اور باقی کو بانٹنے کی ایک سازش ہے ۔ اس موقع پر جسٹس چندرا کمار نے کہا کہ متنازعہ قانون کے خلاف جاری احتجاج کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے اپنے قدم پیچھے ہٹالیے ہیں اور اس کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے

انہوں نے کہا کہ اس متنازعہ قانون کے خلاف جاری احتجاج سے اپنے آپ کو دور رکھنے والے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے فیصلے اس کی تباہی و بربادی کی علامت بن گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو واپس لینے تک احتجاج کو جاری رکھنا ہوگا چونکہ ملک ابھی خطرے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کو صرف 84 خاندانوں نے تباہ کردیا ۔ 10 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ 62 لاکھ افراد بے روزگار بن گئے ہیں ۔ انہوں نے جے این یو کے معاملہ میں وزیر داخلہ کو استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ۔ پروفیسر بی ایل ویشویشور راؤ نائب صدر تلنگانہ جنا سمیتی نے کہا کہ مودی ملک میں ویکاس نہیں بلکہ ویناش لا رہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ جو خود کو سیکولر کہتے ہیں اب تک اس مسئلہ پر اپنی زبان نہیں کھولی ۔ انہوں نے اس احتجاج کو دوسری جنگ آزادی کی تحریک قرار دیا اور کہا کہ پہلے ملک کی آزادی کے لیے تحریک تھی اور اب ملک کو بچانے کے لیے تحریک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور پر یقین رکھنے والوں کو ساورکر اور گوالکر کے نظریات کے خلاف لڑنا ہوگا ۔ پروفیسر نے کہا کہ ملک کو توڑنے والے اس قانون کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے حالیہ دنوں منعقدہ ملین مارچ کو ملک کا تاریخی احتجاج قرار دیا اور کہا کہ یہ دستور پر حملہ و ہندو مسلم کا مسئلہ ہے ۔ لہذا ہندو طبقات کو بھی اس احتجاج میں لایا جائے گا ۔ امجد اللہ خاں خالد ترجمان ایم بی ٹی نے احتجاج کی اجازت دینے میں شرائط اور سختی کرنے والوں اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے کہا کہ گاندھی جی کے مشن کو جاری رکھنے والی تحریک کے خلاف سختی سے باز رہیں ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیکولر ریاست میں گاندھی جی کے قاتل کے نظریات والوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کمشنر پولیس کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہر میں ہر دن فلیش پروٹسٹس جاری رہے گا ۔ امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ ریاست میں این پی آر پر عمل آوری کی تیاری کی جارہی ہے اور مسلمانوں کو اور مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ اس احتجاجی جلسہ عام کو ڈاکٹر کمار نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ہندوستان کہنا چھوڑ دیں ۔ یہ آر ایس ایس کی اصطلاح ہے ۔ دستور میں ملک کو بھارت کا نام دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مٹھی بھر برہمن بے چینی پھیلا رہے ہیں ۔ جب کہ ان کا ملک کی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں اور ڈی این اے میں برہمن بیرونی ثابت ہوچکے ہیں ۔ جن کا ڈی این اے یہودیوں سے ملتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو کا مطلب غلام ہے اور آر ایس ایس ہندو راشٹرا کے نام پر ملک کی عوام کو غلام بنانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ سیاہ قانون کے ذریعہ مسلمانوں پر تیر چلاکر دلت اور آدی واسیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے بھارت بند کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔ جناب عزیز پاشاہ قائد سی پی آئی نے کہا کہ ملک میں سیاہ قانون کے خلاف یونیورسٹیوں سے جاری احتجاج بین الاقوامی سطح پر دنیا کی تمام یونیوسٹیوں میں پہونچ گیا ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے امید وابستہ رکھتے ہوئے کہا کہ متنازعہ قانون ، دستور کے خلاف ہے اور سپریم کورٹ دستور کے خلاف نہیں جائے گا ۔ وحدت اسلامی سے مولانا نصیر الدین نے کہا کہ ملک کو آزادی دلانے والے مسلمانوں کو آج غلام بنانے کی سازش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کو فسادات میں قتل عام کرنے والے اب قانون کے ذریعہ سارے مسلمانوں کو مارنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے قانون کے ذریعہ مسلمانوں کی شناخت کو طلب کرنے کے عمل کو مسلمانوں کی توہین قرار دیا اور مجتبیٰ حسین جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جے این یو اور شاہین باغ کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں جاری مسلسل احتجاج کی زبردست ستائش کی ۔ مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری نے کہا کہ ملک کے دستور کو ختم کرنا ملک کے سیکولرازم اور جمہوریت کو ختم کرنے کے برابر ہے ۔ انہوں نے اس احتجاج میں ہندو مسلم اتحاد اور یکجہتی کو مثالی قرار دیا اور کے سی آر سے اپنا موقف ظاہر کرتے ہوئے ’’کے سی آر ۔ منہ کھولو ‘ کا نعرہ بلند کیا اور حیدرآباد میں شاہین باغ طرز کے احتجاج کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس اجلاس کو پی او ڈبلیو کی قائد سندھیہ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ہندو راشٹرا کی طرف اقدامات ہیں جس کو ہندوستانی سماج قبول نہیں کرے گا ۔ انہوں نے دستور کے تحفظ کے لیے ہر شہری کو آگے آنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس اجلاس کو ایڈوکیٹ دیویا ، شیراز خاں ، ڈاکٹر علیم خاں فلکی ، عثمانیہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سلیم پاشاہ ، مفتی عبدالفتاح سبیلی ، پی ایف آئی کے عبداللطیف ، ڈبلیو پی آئی کے کمال اطہر ، مسلم لیگ کے عبدالستار مجاہد ، سی پی آئی سے عبدالمنان ، ایم پی جے کے عبدالعزیز ، جمعیت اہلحدیث سے شفیق عالم جامعی ایڈوکیٹ ، مسعود خاں کے علاوہ دیگر نے مخاطب کیا ۔ جلسہ عام میں مولانا آزاد یونیورسٹی ، ایم سی بی آئی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ، عثمانیہ یونیورسٹی ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، انسان فاونڈیشن کے علاوہ دیگر تنظیموں

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT