محمد جمیل الرحمن
ارادہ نیک نہیں … !!
جہاز ڈوبنے والا ہے چند لمحوں میں
مزاح سمجھا نہیں ہم نے ناخداؤں کا
ہمیں لڑانے میں اپنے مفاد کی خاطر
ارادہ نیک نہیں دنیا کے رہنماؤں کا
…………………………
قتیلؔ شفائی
نہیں کرتا …!!
وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا
ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا
پکڑا ہی گیا ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو
سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا
کیوں بخش دیا مجھ سے گنہ گار کو مولا
منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا
گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں
چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا
کس قوم کے دل میں نہیں جذبات براہیم
کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا
دیتے ہیں اُجالے مرے سجدوں کی گواہی
میں چھپ کے اندھیرے میں عبادت نہیں کرتا
بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی
میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا
انسان یہ سمجھیں کہ یہاں دفن خدا ہے
میں ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا
دنیا میں قتیلؔ اُس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
…………………………
جدید دعوت نامہ …!!
٭ گیس سلینڈر و پٹرول کی قلت کے پیش نظر دعوت نامہ اس طرح کے بھیجے جارہے ہیں: ’’ فلاں تاریخ کو میری بیٹی کی شادی ہے ، آپ سب ضرور تشریف لائیں ۔ شادی میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو اور جان پہچان کے لوگوں کو بھی لا سکتے ہیں ۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ گیس سلنڈرس کی قلت کی وجہہ سے ضیافت نہیں کرسکتے ، سوچے تھے چائے بسکٹ سے ضیافت ہو مگر یہ بھی ممکن نہیں ۔ اب رہا تحفے (Gift) کا سوال ، آپ کچھ بھی لاسکتے ہیں یا پھر کسی کے ہاتھ روانہ کرسکتے ہیں ! مدت کی قید نہیں …!!
جواب : آپ کا دعوت نامہ ملا ، خوشی ہوئی پڑھکر۔ آپ کی بیٹی کی شادی مبارک ہو ، آپ خوب جانتے ہیں اب بیل بنڈی کا دور نہیں ، ہمارے گاؤں میں ایک ہی پٹرول پمپ ہے وہ بھی پٹرول کی قلت کی وجہ سے بند ہے ۔ آپ کے پاس ٹو وہیلر یا فور وہیلر کے ذریعہ ہی آسکتے ہیں جو پٹرول کے بغیر ناممکن ہے ۔ رہی بات تحفہ دینے کی ، آپ خود آکر گھروں سے مانگ لیں …!! ، باقی خیریت ، آپ کا نیاز مند …!!
محمد فصیح الدین ۔ کاماریڈی
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’بیوی کا ٹنشن …!!‘‘
٭ مرد کی زندگی میں بیوی کی اہمیت سے انکار نہیں، مگر گل سے پیوست خار کی طرح ہر بیوی باعث ’’ٹنشن ‘‘ ضرور ہوتی ہے۔ یہ بات تحریر شدہ نہیں مگرتسلیم شدہ حقیقت ضرور ہے۔ اور اب اس حقیقت کا اعتراف ہندوستان کی پارلیمنٹ میں ہوا ہے۔ پچھلے ہفتہ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل مباحثہ میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ : ’’ ہر مرد کو اس کی بیوی کی جانب سے کسی نہ کسی حوالے سے ٹنشن ضرور دیا جاتا ہے ‘‘ ۔
اس دوران ایوان میں قہقہے اس وقت بلند ہوئے جب راہول گاندھی نے کہا کہ : ’’اس ٹنشن سے میں اور مودی جی بالکل محفوظ ہیں کیونکہ ہماری بیویاں نہیں ہیں …!!‘‘۔
راہول گاندھی کے اس بیان پر کہیں پڑھا ایک جملہ یاد آیا۔ عورت کو کوئی ٹنشن نہیں ہوتا کیونکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہوتی۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
کافی سے زیادہ …!!
٭ شوہر بڑا کم گو تھا اور بیوی بہت باتونی ایک صبح بیوی جھلاکر بولی ’’کیا تم نے مجھے ہوٹل والی سمجھ رکھا ہے ؟ بس ناشتہ ، کھانا ، چائے کے سوائے کوئی بات ہی نہیں کرتے ۔ میں تم سے بات کرنے کو ترس گئی ہوں ۔ شوہر ہوں بولا اور ناشتے میں لگ گیا ۔
بیوی غصے میں بولی : ’’کیا مجھ سے اتنی گفتگو کافی ہے …؟‘‘ شوہر بولا : ’’کافی سے زیادہ ہے ایک کپ اور …!!‘‘
کوثر جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………