صدارتی الیکشن میں تلنگانہ کے 117 ارکان اسمبلی کی رائے دہی

   

دو ارکان غیر حاضر، اسمبلی کے اطراف وسیع تر سیکوریٹی انتظامات،21جولائی کوووٹوں کی گنتی

حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی (سیاست نیوز) صدارتی الیکشن کے لئے تلنگانہ میں آج رائے دہی کا عمل خوشگوار انداز میں مکمل ہوگیا۔ تلنگانہ اسمبلی کے کمیٹی ہال میں قائم کردہ رائے دہی مرکز پر ریاست کے 117 ارکان اسمبلی نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ آندھراپردیش کے کندوکور اسمبلی حلقہ کے رکن مہی دھر ریڈی نے حیدرآباد میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ کریم نگر سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر جی کملاکر کورونا سے متاثر ہیں اور وہ ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں جبکہ ویملواڑہ کے رکن اسمبلی سی ایچ رمیش ملک کے باہر ہیں ، لہذا دونوں ارکان اسمبلی نے حق رائے دہی سے استفادہ نہیں کیا ۔ 119 ارکان کے منجملہ 117 نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ ریاست کے ہر ووٹ کی قدر 132 ہے اور 119 ووٹس کی جملہ قدر 15708 ہوتی ہے۔ صبح 10 بجے رائے دہی کا آغاز ہوا اور شام 5 بجے اختتام عمل میں آیا ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے سب سے پہلے اپنا ووٹ استعمال کیا ۔ بعد میں ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی نے ووٹ دیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے بعد ہنمکنڈہ سے سیدھے اسمبلی پہنچے اور 2 بجے دن اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی ، ڈپٹی اسپیکر پدما راؤ گوڑ ، ریاستی وزراء دیاکر راؤ اور پرشانت ریڈی نے چیف منسٹر کے بعد اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ رائے دہی کے بعد بیالٹ باکس کو مہربند کردیا گیا ہے اور اسے نئی دہلی روانہ کردیا جائے گا۔ 21 جولائی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔ رائے دہی کے سلسلہ میں اسمبلی کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت مجلس نے صدر جمہوریہ کے عہدہ کیلئے یشونت سنہا کی تائید کی جبکہ بی جے پی ارکان نے دروپدی مرمو کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا۔ اسمبلی میں ٹی آر ایس کے 103 اور مجلس کے 7 ارکان اسمبلی ہیں۔ کانگریس کے 6 اور بی جے پی ارکان کی تعداد 3 ہے۔ الیکشن کمیشن کے مبصر کرشنا کمار دیدویدی نے رائے دہی کی نگرانی کی۔ ر