موگادیشو ۔ 22 اگست (ایجنسیز) صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب پیٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ایک ٹینکر کو اغوا کر لیا ہے۔ اپریل سے خلیج عدن اور مغربی بحر ہند میں بحری قزاقی کی نئی لہر کے دوران اب تک چھ تجارتی جہاز اغوا کیے جا چکے ہیں۔ صومالی بحری سیکوریٹی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چھ مسلح قزاقوں نے جمعرات کو اریٹیریا کے پرچم بردار ایم ٹی سیبو ون نامی جہاز کو یمن کے شہر المکلا سے تقریباً 252 کلومیٹر مشرق میں اپنے قبضے میں لیا اور اسے صومالیہ کے نیم خودمختار علاقہ پنٹ لینڈ کے ساحل کی جانب لے گئے۔ سیبو ون کا انتظام متحدہ عرب امارات میں قائم ایک نجی کمپنی کے پاس ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ سال اس ٹینکر پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے پابندیاں لگائی تھیں کہ یہ ایران کے مبینہ ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کا حصہ ہے، جسے امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاز پر عملے کے 20 افراد سوار ہیں، جن میں 16 ہندوستانی، ایک شامی، ایک سوڈانی اور ایک عراقی شہری شامل ہیں، جبکہ ایک رکن کی شہریت فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ جہاز کہاں سے روانہ ہوا تھا اور اس کی منزل کیا تھی، یہ بھی واضح نہیں ہے۔
یہ واقعہ صومالیہ کے ساحل کے قریب کیمرون کے پرچم بردار مال بردار جہاز لطف کے اغوا کے صرف تین روز بعد پیش آیا۔ اس جہاز پر عملے کے 10 افراد سوار تھے، جن میں چھ ہندوستانی، ایک ترک، ایک جارجیائی اور دو سربیائی سیکوریٹی اہلکار شامل تھے۔ سیبو ون رواں سال 21 اپریل کے بعد صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والا چھٹا تجارتی جہاز ہے۔ اس عرصے کے دوران آنر 25، سوارڈ، یوریکا، آسانا اور لطف نامی جہاز بھی قزاقوں کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ حالیہ حملے صومالی ساحل سے بتدریج زیادہ فاصلے پر بھی ہونے لگے ہیں۔ انٹرنیشنل میری ٹائم بیورو کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں دنیا بھر میں بحری قزاقی اور مسلح ڈکیتی کے 38 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں پانچ جہازوں کا اغوا شامل تھا۔ ان جہازوں کے عملے کے 94 فیصد افراد صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے۔ پنٹ لینڈ کی وزارتِ سلامتی نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ بحری قزاقی کی حالیہ لہر کے پیچھے ایسی قوتیں ہیں جو پنٹ لینڈ کے کنٹرول سے باہر ہیں، تاہم کسی ملک یا گروہ کا نام نہیں لیا گیا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔