خواتین کے این جی اوز میں کام پر پابندی کا فیصلہ افغان عوام کیلئے تباہ کن ہوسکتاہے ، امریکہ کا ردعمل
کابل : طالبان نے افغانستان میں فعال غیر ملکی سِول سوسائیٹیوں میں خواتین ملازمین کا کام کرنا تا حکمِ ثانی ممنوع قرار دے دیا ہے۔طالبان عبوری حکومت کی وزارت اقتصادیات کے ترجمان عبدالرحمٰن حبیب نے کہا ہے کہ ملک میں موجود تمام سِول سوسائیٹیوں کو مذکورہ فیصلہ سے آگاہ کر دیا گیا اور فیصلے پر عمل کا حکم دے دیا گیا ہے۔حبیب نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا مذکورہ فیصلہ سوسائیٹیوں کی غیر ملکی خواتین ملازمین کا بھی احاطہ کرتا ہے یا نہیں؟افغانستان وزارت اقتصادیات کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ اداروں میں عورتوں کے، طالبان انتظامیہ کے لاگو کردہ ، پردہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے بارے کثیر تعداد میں شکایات موصول ہوئی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین ملازمین کو ملازمت سے برخاست نہ کرنے والی سِول سوسائیٹیوں کے لائسنس منسوخ کر دئیے جائیں گے۔واضح رہے کہ طالبان عبوری حکومت کے ہائی ایجوکیشن کمیشن نے 20 دسمبر کو افغانستان کی تمام یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو تا حکم ثانی منسوخ کر دیا تھا۔گذشتہ سال 15 اگست کو طالبان کے افغانستان کا ا قدار سنبھالنے کے بعد سے سرکاری اور نجی سیکٹر میں کثیر تعداد میں خواتین ملازمین کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے افغانستان میں خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ طالبان کی پابندی سے لاکھوں افراد کو اہم اور جان بچانے والی امداد میں خلل پڑے گا، یہ فیصلہ افغان عوام کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔دوسری جانب یورپی یونین نے بھی این جی اوز میں خواتین کیکام کرنے پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، اس کا اثر ہماری امداد پر پڑے گا۔ مزید براں اس فیصلے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان میں حکمران طالبان نے خواتین کی اعلی تعلیم کے بعد ان کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق افغان وزارت معاشی امور کی جانب سے تمام مقامی اور غیر ملکی تنظیموں کو خواتین ملازمین کو کام پرنہ بلانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی پر این جی اوز کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔