جب چلی اپنوں کی گردن پر چلی
چوم لوں منہ آپ کی تلوار کا
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملے شروع کردئے گئے ہیں اور نہ صرف سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور پائپ لائینس کو نشانہ بنایا جا رہاہے بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے کرہ ارض کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی وحشیانہ اور ناقابل برداشت حرکت کہی جاسکتی ہے ۔ نہ صرف یہ کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بناکر حملے کئے گئے تھے بلکہ مدینہ منورہ کے تعلق سے بھی مختلف اندیشوںکا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ حوثیوں کے یہ حملے کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور ان کو ناکام بنادیا گیا ہے لیکن یہ حملے کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں ہوسکتے کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے سب سے مقدس ترین مقامات ہیں اور ان پر حملوں کی کوشش کو دنیا بھر کے مسلمان کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتے ۔ سارے مشرق وسطی کی جو صورتحال ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ یہ ایک سازش رچی جارہی ہے تاکہ سارے عالم اسلام کو جنگ میں ڈھکیل دیا جائے ۔ اسرائیل سارے خطہ میں سازشوں کا جال بنتا چلا جا رہا ہے اور امریکہ اس طرح کی سازشوں کو آگے بڑھانے کا مرتکب بن رہا ہے ۔ سب سے پہلے اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے خلاف حملے کرنے کیلئے اکسایا ہے ۔ ایران پر امریکہ کے ساتھ مل کر حملے کئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین طئے پائے امن معاہدہ کو سبوتاج کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کے قتل کی سازش کا دعوی کیا ہے ۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کردئے ۔ علاقہ میں امن قائم ہوتے ہوتے رہ گیا اور ایک بار پھر سے جنگ و جدال کا سلسلہ وسیع ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان اور غزہ پر بھی جنگ بندی کے باوجود حملوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ ان دونوں مقامات پر تباہی مچائی جا رہی ہے ۔ مغربی کنارہ میں غیر قانونی یہودی بستیاں بسانے کے نام پر فلسطینیوں کا عرصہ حیات دوبارہ سے تنگ کیا جا رہا ہے اور توسیع پسندانہ عزائم پر کام کیا جا رہا ہے ۔
اس کے ساتھ ہی حماس اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے نام پر بھی کئی حملے کئے جا رہے ہیں۔ اب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور یہ حملے سعودی عرب کے عام مقامات پر نہیں بلکہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بناتے ہوئے بھی کئے گئے ہیں اور اسی وجہ سے یہ شبہات تقویت پانے لگے ہیں کہ ان حملوں کے پس پردہ بھی اسرائیلی سازش کارفرما ہوسکتی ہے اور اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے سارے مشرق وسطی کو جنگ و جدال کی کیفیت میں مبتلاء کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی سازش ہوسکتی ہے کہ ساری مسلم اور اسلامی دنیا جنگ میں شامل ہوجائے تاکہ وہ نراج کی کیفیت کے دوران اپنے صیہونی عزائم کی تکمیل کرسکے ۔ حوثی باغی ہوں یا پھر کوئی اور گروپ یا چاہے کوئی اور ملک ہی کیوں نہ ہو کسی کو بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس ترین شہروں پر حملوں کی اجازت کسی بھی قیمت پر نہیں دی جاسکتی ۔ دنیا بھر کے مسلمان ان شہروں کی حرمت کو پامال کرنے کی کوششوں اور سازشوں کو برداشت نہیں کرسکتے اور ان میں غم و غصہ کی لہر پیدا ہوگئی ہے ۔ سعودی عرب کا جہاں تک سوال ہے تو وہ اس صورتحال میں بھی صبرو تحمل سے کام لے رہا ہے اور حوثیوں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔ حوثیوں کو اپنے حملوں کو فوری طور پر روکنا چاہئے اور مسلم اور اسلامی دنیا کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش کو کامیاب ہونے کا سبب نہیں بننا چاہئے ۔
حوثی باغیوں کے حملوں پر دنیا بھرک ے تقریبا تمام اسلامی اور مسلم ممالک نے شدید برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور حملوں کی مذمت کی ہے ۔ تمام مسلم ممالک کو سازشی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کو ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہونا چاہئے اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور سرزمین حجاز کی حفاظت کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کے حملوں پر فوری طور پر روک لگانے موثر حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے ۔